امن کی خواہش، دفاع کا عزم: صدر زرداری کا پرعزم موقف
صدر زرداری کا یہ کہنا کہ "مجھے پاکستان کی مسلح افواج، پاک بحریہ اور فضائیہ پر ہمیشہ سے یقین رہا ہے" ان کی قومی اداروں پر اٹوٹ اعتماد کا اظہار ہے۔
پاک بھارت کشیدگی کے اس نازک موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری کا حالیہ بیان پاکستان کی قومی یکجہتی اور عزم و استقلال کا عکاس ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہمارا ملک سخت امتحان سے گزر رہا تھا، صدر زرداری نے قوم کو متحد کرنے کا کردار ادا کیا اور پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا۔
صدر زرداری کا یہ کہنا کہ "مجھے پاکستان کی مسلح افواج، پاک بحریہ اور فضائیہ پر ہمیشہ سے یقین رہا ہے" ان کی قومی اداروں پر اٹوٹ اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے عظیم قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کے خلاف قوم کی آواز بلند کی اور فوجی قیادت کو مضبوط پشت پناہی فراہم کی۔
صدر زرداری نے واضح طور پر بیان کیا کہ "ہم نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا" اور "بھارت کی نام نہاد فوجی قوت کو سخت ٹھیس پہنچائی ہے"۔ یہ بیان پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر ان کے اعتماد کا ثبوت ہے، جس سے قوم میں یہ پیغام گیا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
صدر زرداری کا یہ کہنا کہ "آج ہماری قوم کا عزم بےمثال ہے" اور "یہی عزم ہمارے آباؤ اجداد کے دو قومی نظریہ کو تقویت بخشتا ہے" قوم کو ایک نظریاتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اسلامی ریاست کی حیثیت اور اللہ پر ایمان کو پاکستان کی طاقت کا سرچشمہ قرار دیا، جو ایک خاص اہمیت کا حامل پیغام ہے۔
صدر زرداری نے نہ صرف آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کو الگ الگ خراج تحسین پیش کیا بلکہ تمام افواج کی بہادری اور انتھک محنت کو بھی سراہا۔ یہ ان کی فوجی قیادت سے قریبی تعلقات اور ان کی قدر دانی کا واضح ثبوت ہے۔
صدر زرداری کی دوراندیشی ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتی ہے کہ "جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام تنازعہ جموں و کشمیر کے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل اور دیگر مرکزی مسائل بالخصوص سندھ طاس معاہدہ کے حل میں ہے"۔ یہ بیان انہیں ایک امن پسند لیکن اصولوں پر مضبوطی سے قائم رہنے والے رہنما کے طور پر سامنے لاتا ہے۔
ان کا چین، امریکہ، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران جیسے دوست ممالک کا شکریہ ادا کرنا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی موقف کی حمایت کو اجاگر کرتا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صدر زرداری کی سفارتی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔
آخر میں، صدر زرداری نے اپنی بات "پاکستان اشتعال انگیزی نہیں چاہتا، امن کا خواہاں ہے" کہہ کر اور بیک وقت "ہم اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے" کا اٹل عزم ظاہر کرکے ایک متوازن پیغام دیا۔ یہ بیان صدر زرداری کی حکمت عملی اور دور اندیشی کا کمال ہے۔
صدر زرداری نے اس بحرانی صورتحال میں قوم کی قیادت کرتے ہوئے نہ صرف اندرونی یکجہتی قائم کی بلکہ بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی پوزیشن کو بھی مضبوط بنایا۔ انہوں نے سفارتی، فوجی اور قومی سطح پر متوازن اور موثر قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسی قیادت کی موجودگی پاکستان کے لئے ایک نعمت ہے جو ملک کو مشکل حالات میں بھی سلامتی سے لے کر نکلنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
بیشک، آج کے بحرانی دور میں صدر آصف علی زرداری کی دانشمندانہ قیادت اور بہادرانہ موقف نے پاکستان کو بین الاقوامی میدان میں سربلند کیا ہے اور قوم کو ہر قسم کے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت بخشی ہے۔
i love pakistan