جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

سحر کامران کا قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب

انہوں نے آپریشن "بنیان مرصوص” کے دوران قومی اتحاد کی بھی تعریف کی۔

Editor

ایک سال قبل

Voting Line

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی سحر کامران نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت کو سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے آپریشن "بنیان مرصوص” کے دوران قومی اتحاد کی بھی تعریف کی۔ انہوں نےانسدادِ نشہ آور مواد (ترمیمی) بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ بل پیش کرنے کی اجازت کے لیے انہوں نے وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے درخواست کی، جنہوں نے تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بل پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے۔ ایوان نے متفقہ طور پر ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک منظور کر لی اور بل کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ سحر کامران نے کہا کہ موجودہ قانون میں متعدد خامیاں ہیں جن کی بنا پر منشیات کے خلاف جنگ میں پیشرفت رک جاتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ نئی شقیں شامل کی جائیں اور تعزیرات کو سخت کیا جائے۔

اینٹی نارکوٹکس (امینڈمنٹ) بل کے تحت:

  • طلبا میں منشیات کے استعمال کو قابل سزا جرم قرار دیا جائے گا۔

  • یونیورسٹی میں داخلے کا انحصار لازمی منشیات ٹیسٹنگ سے جوڑا جائے گا۔

  • اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں منشیات سے آگاہی مہمات چلائی جائیں گی، اور تعلیمی اداروں پر مشتبہ استعمال کی صورت میں والدین کو مطلع کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔

  • طلبا کے میڈیکل ٹیسٹ والدین کی رضا مندی کے بغیر نہیں کیے جا سکتے، اور تصدیق شدہ کیسز میں تعلیمی اور قانونی کارروائی اختیار کی جائے گی۔

  • نصاب میں منشیات سے آگاہی کے مضامین شامل کرنے اور طلبا کو اسبابِ نشہ کی تباہ کاریوں سے روشناس کرانے کے لیے خصوصی تربیت فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

  • بل میں والدین، اساتذہ اور طلبا کو منشیات کے استعمال کے خلاف ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور متاثرہ افراد کے لیے مشاورت و بحالی (کاؤنسلنگ و ری ہیبلیٹیشن) سہولیات کے قیام کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

  • تعلیمی کیمپس کے قریب منشیات کے سپلائرز کے خلاف سخت کارروائی لازمی قرار پائی ہے۔

بل کے مطابق اس کا بنیادی مقصد طلبا کو منشیات کی لت سے محفوظ رکھنا اور ایک صحت مند، محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے جو ان کی مستقبل کی ترقی کی حمایت کرے۔ یہ اقدام چند سال قبل تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف شروع کیے گئے اقدامات کی تکمیل ہے۔

اجلاس میں سحر کامران نے ایک توجہ دلاؤ نوٹس بھی پیش کیا، جس میں کپاس کی مقامی فروخت، سوتی دھاگے اور خام کپڑے پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس کی وجہ سے پیدا شدہ بحران پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بھاری ٹیکسوں نے کپاس کو لاوارث فصل بنا دیا اور پاکستان عالمی پیداوار میں چوتھے نمبر سے آٹھویں نمبر پر گر گیا ہے۔ اگر ٹیکس ختم کر دیا جائے تو درآمدات میں کمی اور زرمبادلہ کی خاطر خواہ بچت ممکن ہے۔

ایوان نے سحر کامران کے نوٹس کو بھی منظور کر کے متعلقہ وزارتوں کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی، جبکہ سپیکر نے کہا کہ کاشتکاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے تاکہ زرعی اور صنعتی شعبوں کا توازن برقرار رہے۔

 

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry