جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

اداریہ: صدر زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں قومی یکجہتی اور سفارتی حکمت عملی

صدر زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کی یہ کوششیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ جب قومی مفادات کی بات ہو تو تمام سیاسی قوتیں یکجا ہو جاتی ہیں۔

Editor

ایک سال قبل

Voting Line

صدر مملکت آصف علی زرداری کا گوجرانوالہ چھاؤنی کا دورہ قومی یکجہتی اور مسلح افواج کے جذبے کا عملی اظہار ہے۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور منگلا و گوجرانوالہ کور کے کمانڈرز کے ہمراہ صدر مملکت نے جنگی تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور جذبہِ قربانی کے مظاہرے پر پاک فوج کے جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی کامیابی نے یہ واضح کر دیا کہ ہماری فوج دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند ڈٹی رہتی ہے اور چند گھنٹوں میں دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شہدا کی قربانیاں ایک مقدس امانت ہیں، اور صدر زرداری نے انہیں قومی فخر قرار دے کر ملک و قوم کے لیے ان کے تئیں شکرگزاری کا پیغام دیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کا گوجرانوالہ چھاؤنی کا دورہ محض ایک رسمی سرگرمی نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا پیغام تھا جس نے پاکستان کے سینکڑوں جوانوں کے دلوں میں نئی روح پھونک دی۔ آپریشن "بنیان مرصوص" کی کامیابی پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے صدر زرداری نے واضح کیا کہ "دشمن کی ہر جارحیت کا جواب ہماری افواج کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت سے دیا جاتا ہے"۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو "مقدس امانت" قرار دیتے ہوئے قوم کو یہ باور کرایا کہ یہ قربانیاں پاکستان کے عزم کی علامت ہیں۔

صدر زرداری کا یہ بیان کہ "تاریخ گواہ رہے گی کہ چند گھنٹوں میں دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا گیا" ، نہ صرف فوجیوں کے جذبے کو مضبوط کرتا ہے بلکہ عوام کے دلوں میں اطمینان بھی پیدا کرتا ہے۔ ان کی جانب سے جوانوں کی "مثالی جنگی تیاری" اور "فرض شناسی" کو سراہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ قیادت اپنے محافظوں کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ رکھتی ہے۔

صدر مملکت نے اپنی تقریر میں کہا کہ ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی فوج نے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی دفاعِ وطن کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہے گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، صدر زرداری نے مادرِ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوانوں اور سویلین شہداء کی یاد میں فاتحہ خوانی اور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس اقدام نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ قیادت اور مسلح افواج کا رشتہ اعتماد اور یکجہتی پر مبنی ہے، جو دشمن کو بے حد خوفزدہ کرتا ہے۔

ایک اور قابلِ تعریف پیش رفت یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے موقف کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے کی ذمہ داری سونپنا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ بلاول بھٹو، جو خود سابق وزیر خارجہ کی حیثیت سے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا حصہ رہ چکے ہیں، نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے کہا: "میں مشکل حالات میں ملک کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتا ہوں

وزیراعظم کے کہنے پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نہ صرف اس کمیٹی کی سربراہی قبول کی بلکہ حکمت عملی اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج پیش کرنے کی ذمہ داری کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا۔ بلاول بھٹو کا یہ جذبہ اور مظبوط عزم ایک توانائی بخش علامت ہے کہ پاکستان کی قیادت دفاعِ وطن اور قومی مفادات کے لیے متحد ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ انہیں عالمی سطح پر پاکستان کا امن کا مؤقف پیش کرنے پر فخر ہے اور وہ اس مشکل وقت میں ملک کی خدمت کے لیے پرعزم ہیں۔ اس وفد میں شامل حنا ربانی کھر، جلیل عباس جیلانی اور خرم دستگیر جیسے تجربہ کار رہنما عالمی فورمز پر پاکستان کے موقف کو قوتِ ثقل فراہم کریں گے۔ سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی اشتعال انگیزیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے یہ وفد نہ صرف حقائق پیش کرے گا بلکہ دشمن کے پروپیگنڈے کو بھی بے نقاب کرے گا۔

ان کی قیادت میں تشکیل پانے والے وفد میں حنا ربانی کھر، جلیل عباس جیلانی، اور خرم دستگیر جیسے تجربہ کار سفارت کاروں کی شمولیت نے اس مہم کو اور بھی وزنی بنا دیا ہے۔ یورپ کے دورے کے دوران یہ وفد نہ صرف بھارت کی اشتعال انگیزیوں کو اجاگر کرے گا بلکہ سندھ طاس معاہدے جیسے اہم مسائل پر پاکستان کے حقائق کو بھی عالمی رہنماؤں تک پہنچائے گا۔ بلاول کا یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ ثابت بھی کرتا ہے کہ پاکستان کی نئی نسل کی قیادت بھی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

صدر زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کی یہ کوششیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ جب قومی مفادات کی بات ہو تو تمام سیاسی قوتیں یکجا ہو جاتی ہیں۔ صدر زرداری کا فوجی افسران اور جوانوں کے ساتھ براہ راست رابطہ، اور بلاول بھٹو کا وزیراعظم کے ساتھ تعاون، دونوں ہی پاکستان کی مضبوط جمہوریت اور پائیدار امن کی علامت ہیں۔

آج کے دور میں، جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، پاکستان کی قیادت نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف داخلی طور پر مستحکم ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنا لوہا منوا سکتی ہے۔ صدر زرداری کی فوجی ہمت کو سراہنے والی تقاریر اور بلاول بھٹو کی سفارتی مہم دونوں ہی اس بات کا پیغام ہیں کہ پاکستان کا دفاع ہمارے جوانوں کے خون سے، اور اس کا احترام ہماری حکمت عملی سے وابستہ ہے۔

صدر مملکت اور چیئرمین پیپلز پارٹی کی قیادت نے ایک پیغام دیا ہے کہ دفاعِ وطن اور قومی خودمختاری کے معاملے میں سیاسی اختلافات پسِ پشت رہتے ہیں۔ یہ منفرد مثال ہے کہ کس طرح دو اہم سیاسی رہنما ایک مشترکہ قومی مقصد کے لیے مل کر قدم اٹھا رہے ہیں۔ اس سے قوم میں حوصلہ اور امید کی لہر دوڑ گئی ہے کہ پاکستان کی قیادت اپنے فرائض کو بخوبی سمجھتی ہے اور حالات کے تقاضوں کے مطابق حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت نے یکجہتی، حوصلہ افزائی اور قومی عزم کی ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ انہیں داد دینی چاہیے کہ انہوں نے نہ صرف افواجِ پاکستان کے جذبے کو سراہا بلکہ ملک کے عالمی موقف کو مضبوط کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات بھی کیے۔ قوم کو ان رہنماؤں کی قیادت میں مستقبل کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا اعتماد حاصل ہے، اور یہ یقین ہے کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں سرخرو ہوگا۔

قوم کے دونوں رہنما اپنے اپنے دائرے میں ایسے کام کر رہے ہیں جو آنے والی نسلوں کو بتائیں گے کہ مشکلات میں بھی حوصلہ اور حکمت عملی سے ملک کو کامیابی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔ ہمیں ان کی قیادت پر فخر ہے، اور یہی وہ یکجہتی ہے جو پاکستان کو ہمیشہ بلند مقام پر لے جائے گی۔

Comments
Muhammad Anzar ایک سال قبل

Pakistan & Pakistan people,s party Zindabad

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry