پی پی-52 میں انتخابی دھاندلی کے سنگین الزامات پیپلز پارٹی کا نئے انتخابات اور تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ"
ندیم افضل چن کا الزام: 15,000 ووٹ گم، ن لیگ نے سول انتظامیہ کے ذریعے دھاندلی کی
یکم جون کو پی پی 52 میں دھاندلی اور انتظامیہ جیتی ہے،یہ الیکشن شفاف تھے نہ منصفانہ ہر طرف سول ایڈمنسٹریشن اور انڈر ورلڈ کے بدمعاش پھیلے ہوئےتھے، ایسے الیکشن کرانے سے بہتر ہے الیکشن کمشن انہیں الاٹمنٹ لیٹر دیدے
۔ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے پیپلز سیکرٹیریٹ ماڈل ٹاؤن میں پی پی 52سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرسیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ،نیلم جبار،راحیل کامران چیمہ،آصف بشیر بھاگٹ،عائشہ نواز چودھری،فیاض بھٹی، آصف بلوچ،عظیم حفیظ،حسن اشرف اورطاہر غالب بھی موجود تھے۔پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا کہ ن لیگ سے جو سلام بھی لیتا ہے لوگ اسے ووٹ نہیں دیتے،تسلیم کرتا ہوں کہ لوگوں نے ہمیں ن۔لیگ کا ساتھ دینے کے باعث ووٹ نہیں دئیے،ہم ن لیگ کے لڑ لگے(اتحادی بنے) ہیں تو یہ دیکھنا پڑا ہے۔ہم کہتے تھے حکومت کے اتحادی نہیں۔مگرلوکل لیول پر کنفیوژن تھی،پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں ملے تو ن لیگ کی وجہ سے،یہ الیکشن فراڈ تھا،کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا سیٹھ اور الیکشن کمشن اشرافیہ سے آزاد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن حکومت کی کارکردگی جانچنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ن لیگ کی پنجاب میں جتنی حکومتیں رہی ہیں وہاں ان کا مقابلہ ہی نہیں ہونا چاہیے تھا،دائیں بازو کی جماعت کیساتھ جو ہو رھا ہے انہیں پتہ چل رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا رونا دھونا ٹھیک تھا۔ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچانے کیلیےکوڑے، شاہی قلعے،کاروبار تباہ کرنے کا طریقہ کار اپنایا گیا،یہ ہماری جیت ہے کہ لوگ پیپلز پارٹی کے دکھوں کو اب مان رھے ہیں۔مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ کامریڈ راحیل چیمہ کو الیکشن لڑنے پر مبارکباد دیتا ہوں،انہوں نے کہا کہ ہمارے ورکر کہتے تھے کہ الیکشن کے بعد تگڑے لوگ ہمارے ساتھ وہ کرینگے کہ سب دیکھیں گے،حکومتی لوگ کہتے ہیں کہ 400ووٹ۔ملے ،لودھیکے کے ایک پولنگ سٹیشن کا ووٹ 400سے زائد ہے۔ندیم افضل چن نے کہا کہ کسان کی تین فصلیں رل گئی ہیں۔مکی ،گندم اور چاول نہیں بکے۔انہوں نے ن لیگ کا نام لیے بغیر کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ انکے ساتھ بیٹھے ہیں تو ووٹ نہیں دینگے
لوگ سچے ہیں۔انہوں نے ہمیں بھی اور قسم سے انہیں بھی ووٹ نہیں دئیے،سمبڑیال میں انکی انتظامیہ اور تگڑے لوگ ہیں،ہمارا 15000ووٹ تھا جسے 7000دکھایا گیا ہے،185 میں سے 39پولنگ سٹیشنوں کے فارم 45 ہمیں ملےہیں،انہیں خود گمان ہے تو موجودہ الیکشن کمشن کے بغیر الیکشن کرائیں،یہ دراصل ن الیکشن کمشن اور ڈی ایم جی این کا کیا دھرا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ملکانوالی،مترانوالی اور دیگر مقامات میں پولیس اور بد معاشروں کے ذریعے پولنگ رکوائی گئی۔یہ لوگ پولنگ باکس اتھا کر لے گئے ہیں۔ہمارا کام لوگوں کو ایکسپوز کرنا ہے،ہمارا تعلق ووٹ ڈالنے والوں سے ہے،گننے والوں سے نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس الیکشن سے اگلے الیکشن کی تیاری کرینگے ۔اتوار کے روز مقامی فیکٹریوں کے مزدوروں کو ووٹ کاسٹ نہیں کرنے دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ 3800پہلے اور 9000یوٹیلٹی سٹورز ملازمین اب فارغ کیے جا رھے ہیں،تعلیمی اداروں کی نجکاری کے بعد غریب کا بچہ اب کہاں پڑھے گا۔ندیم افضل چن نے کہا کہ ایک اپوزیشن جماعت حکومت سے ڈائیلاگ کی بجائے گیٹ نمبر 4پر چلی گئی ہے۔ہر الیکشن فری اینڈ فیئر ہونا چاہیے۔85کے بعد پیپلز پارٹی کسی الیکشن کی بینیفیشری نہیں رھی۔میڈیا سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم حکومت میں ہیں ہی نہیں تو چھوڑیں کیا؟ہم جمہوریت اور پارلیمان پر یقین رکھنے والی جماعت ہیں،کاروکاری،وٹہ سٹہ اور کم عمری کی شادیوں کیخلاف نیا قانون آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اور بلاول بھٹو نے پاکستان کا نام پوری دنیا میں سر بلند کیا ہے،آئین کی سپر میسی اور پارلیمان و جمہوریت کیلیے کسی بھی جماعت کیساتھ ملکر چلنے کو تیار ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی نے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور تنظیموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ واحد ضمنی الیکشن ہے جس کا ٹرن آؤٹ جنرل الیکشن سے زیادہ ہے۔آپ کی کریڈیبلٹی پر کسی کو یقین نہیں، کارکردگی یہ ہے کہ ہسپتال آؤٹ سورس کر کے ڈاکٹرز کو بیروزگار کیا،سکولوں کی نجکاری کر کے بچوں سے تعلیم چھینی،پی آئی اے،پاسکو اور دیگر ملکی جائیدادیں بیچنے کے درپے ہیں،اس سب کے باوجود ان فرشتوں کا ووٹ بنک بڑھ رھا ہے۔حکومتی وزیر کی پریس کانفرنس کے سوال پر حسن مرتضی کا کہنا تھا کہ محترمہ اسی ڈگر پر چلتی رھیں تو اپنی جماعت کی طرح ایکسپوز ہو جائینگی۔ انہوں نے مذید کہا کہ موجودہ ارینجمنٹ کے باعث پیپلز پارٹی اپنا سیاسی نقصان کر رھی ہے
جنرل سیکرٹری پی پی پی سنٹرل پنجاب حسن مرتضیٰ نے حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے تحت پیپلز پارٹی اپنا سیاسی نقصان کر رہی ہے۔ انہوں نے کسانوں کے مسائل پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ مکی، گندم اور چاول کی تین فصلیں تباہ ہو گئیں اور فروخت نہیں ہو سکیں۔ انہوں نے نجکاری کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، "ہسپتالوں کی نجکاری سے ڈاکٹر بے روزگار ہو رہے ہیں، اسکولوں کی نجکاری سے بچوں سے تعلیم چھینی جا رہی ہے، اور پی آئی اے، پاسکو سمیت قومی اثاثے بیچنے کی کوششیں جاری ہیں۔"
۔پی پی 52 سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر راحیل۔کامران چیمہ نے مطالبہ۔کیا کہ حلقے میں دھاندلی کیخلاف تحقیقاتی کمشن بنایا جائے،اس سب کا ماسٹر مائنڈ خواجہ آصف ہے۔انہوں نے کہا کہ پی پی 52 میں دوبارہ الیکشن کا اعلان کیا جائے۔
No comments yet.