پیپلزپارٹی کا عمرانی خلاء: قیادت اور کارکنان کے درمیان خلیج
تحریر: سید محمد عمار کاظمی
ہماری جماعت دو نسلوں پر چل رہی ہے۔ ایک وہ جو زرداری صاحب کے ہم عمر یا ان سے تھوڑے بڑے یا چھوٹے ہیں، اور دوسرے وہ جو چیئرمین بلاول کے ہم عمر یا تھوڑے بہت چھوٹے بڑے ہیں۔
درمیان میں کسی نے پیپلزپارٹی جوائن نہیں کی یا لیڈرشپ نے اس پر توجہ نہیں دی۔ چیئرمین کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ ان کی عمر کے لوگوں میں ان کی فالوئنگ، کم از کم پنجاب میں، تو نہ ہونے کے برابر ہے۔
ہم عمر فالوئنگ عمومی طور پر ہوتی بھی نہیں کیونکہ ایک حسد، بغض اور فرسٹریشن ہوتی ہے، جو یوتھ کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی عمر کی لیڈرشپ کو کم ہی پسند کرتی ہے۔ باہر کا تو پتہ نہیں، مگر پاکستان میں یہ مسئلہ بہرحال موجود ہے۔ آپ دیکھ ہی سکتے ہیں کہ مریم نواز کی بھی اپنی ہم عمر خواتین میں کوئی خاص فالوئنگ نہیں ہے۔
سیم جینڈر اور ہم عمر کی بالادستی صرف بہت ہی غیر معمولی شخصیات حاصل کر سکتی ہیں۔
ہمارا چیئرمین شہید بھٹو کے گھرانے کی دوسری نسل سے ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بزرگوں کی چھاپ بھی ہوتا ہے۔
میرے نزدیک بلاول کی ذہانت میں کوئی کلام نہیں، مگر مسئلہ وہی ہے کہ پارٹی تھنک ٹینکس گہرے سیاسی و سماجی شعور سے عاری ہیں۔ ان کے اسباق "جیے بھٹو" سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ ان کے پاس کوئی نئی سوچ ہے نہ آئیڈیاز۔
پیپلزپارٹی کو جو مسائل درپیش ہیں، ان میں سب سے بڑا کردار اس ڈسکنیکٹ کا ہے جو بوڑھوں کی وجہ سے پیدا ہوا۔
اگر پیپلزپارٹی پنجاب میں ہر عمر کے لوگوں کو موقع دیتی، ان کی سنی جاتی، تو یقیناً ہماری یہ حالت نہ ہوتی!
No comments yet.