ائی ایم ایف اور بابوں کا بجٹ
تحریر اطہر شریف
بجٹ 2025-26 پاکستان کے عوام کےُلیے مایوسی کا بجٹ ہے -اس طرح کا بجٹ صرف مسلم لیگ ن کی حکومت ہیُ بنا سکتی ہے سب سے پہلے پنیشروں کے ساتھ اس طرح کا سلوک مسلم لیگ نُ ہی کر سکتی ہے ایک تو مہنگائی کے زمانے میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف صرف 7 % فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور ان کی فیملی پینشن کا 10 سال بعد خاتمہ کر دیا گیا ہے کر دیا ہے جو کوئی بیوہ ہو جائے گی اس کو فیملی پینشن سے 10 سال ملے گی اس کےبعد فاقے کاٹے گی -ملک میں زرعی شعبہ قومی جی ڈی پی میں 23 فیصد سے زائد حصہ رکھتا ہے اور ملک میں 40 فیصد کے قریب روزگار بھی فراہم کرتا ہے۔موجودہ مالی سال کے جاری کردہ اقتصادی سروے کے مطابق ملک کی پانچ بڑی فصلوں کی پیداوار میں ساڑھے تیرہ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
حکومت کےمطابق موجودہ مالی سال میں کپاس کی پیداوار میں 30 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی جو 70 لاکھ بیلز رہی۔ گذشتہ سال ملک میں ایک کروڑ سے زائد بیلز کی پیداوار ہوئی تھی۔ گنے کی فصل تقریباً چار فیصد کمی کے بعد چوراسی لاکھ ٹن رہی۔
موجودہ مالی سال میں چاول کی پیداوار میں تقریباً ڈیڑھ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد اس کی پیداوار نوے لاکھ ٹن رہی۔
ملک میں مکئی کی پیداوار بھی موجودہ مالی سال میں 15 فیصد کمی کے بعد 82 لاکھ ٹن رہ گئی۔
اسی طرح موجودہ مالی سال میں گندم کی فصل میں لگ بھگ نو فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد اس کی پیداوار دو کروڑ 80 لاکھ ٹن رہ گئی جو گذشتہ مال سال میں تین کروڑ دس لاکھ ٹن تھی۔اس وقت روئی، خام کاٹن اور گرے کلاتھ کی درآمد بغیر کسی ڈیوٹی کے ہو رہی ہے جبکہ ملک میں ان پر 18 فیصد ٹیکس لگا ہوا ہے۔ ان کی مقامی اور بین الاقوامی قیمتیں یکساں ہیں جس کا مطلب ہے کہ مقامی کاٹن کی کھپت نہیں تو اس کی پیداوار بھی کم ہوئی ہے۔ماحولیاتی تبدیلی نے کپاس کی فصل کو منفی طور پر متاثر کیا جب کہ ملک میں گنے کی فصل کی زیادہ کاشت کی وجہ سے کاٹن اکنامی زون میں کمی واقع ہوئی ہے۔گندم کے ایک من پر لاگت چار ہزار روپے تھی تاہم انھیں 2000 روپے فی من بھی نہ ملے جس کی وجہ سے اس سال گندم کی کم بوائی کی گئی۔ انھوں نے حکومت کے گندم کی پیداوار میں نو فیصد کمی کو بھی غلط قرار دیا اور کہا یہ پیداوار پندرہ سے بیس فیصد کم ہوئی۔
واضح رہے پنجاب حکومت نے گندم کے ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہونے کی بنیاد پر اس کی خریداری نہیں کی گئی تھی اور بار دانہ یعنی گندم کی سپورٹ پرائس کی پالیسی کو ختم کردیا تھا جس کے تحت حکومت کسانوں سے گندم ایک خاص قیمت پر خریدتی تھی تاکہ کسان کو اس کی گندم پر اٹھنے والی لاگت مل سکے۔
حکومت نے شرح سود سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔ یعنی اگر سالانہ بچت سے ایک لاکھ روپے منافع مل رہا تھا اور اس پر 15 ہزار روپے ٹیکس کٹ رہا تھا، تو اب یہ 20 ہزار روپے ہوگا۔پیٹرول، ہائی سپیڈ ڈیزل اور فرنس آئل پر 2.5 روپے فی لیٹر کی شرح سے کاربن لیوی عائد کی جائے گی جو اگلے سال بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر کر دی جائے گی۔اس سے عام آدمی کے استعمال پیڑول اور ڈیزل مہنگا ہو جائے گا اور اس سے ہر چیز کی قمیت میں اضافہ ہو جائے گا
جبکہ پیٹرول یا ڈیزل استعمال کرنے والی تمام گاڑیاں بشمول ہائبرڈ کاروں پر سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس وقت 1800 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 18 فیصد کی بجائے ساڑھے آٹھ فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔
دوسری طرف 850 سی سی سے کم ہارس پاور کی نئی گاڑی، مثلاً سوزوکی آلٹو، پر بھی سیلز ٹیکس کی شرح ساڑھے 12 فیصد سے بڑھ کر اب 18 فیصد ہو جائے گی۔
ایک اندازے کے مطابق سیلز ٹیکس میں اضافے سے آلٹو کی قیمت میں قریب ایک لاکھ 70 ہزار روپے تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کردہ سولر پینلز کے درمیان مسابقت میں برابری کو یقینی بنانے کے لیے سولر پینلز کی درآمدات پر 18 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے قبل پاکستان میں درآمد شدہ سولر پینلز پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کی شرح ہے۔
بجٹ 26-2025 کے اہم خدوخال
کل اخراجات کا تخمینہ 17 ہزار 573 ارب روپے
8 ہزار 207 ارب روپے سود کی ادائیگی کے لیے مختص
جاری اخراجات کا تخمینہ 16 ہزار 286 ارب روپے
حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 72 ارب روپے
ایف بی آر محصولات کا تخمینہ 14ہزار 131 ارب روپے
نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 147 ارب روپے
ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں
ملکی دفاع کے لیے 2 ہزار 550 ارب روپے مختص
پنشن کیلئے ایک ہزار 55 ارب روپے رکھنے کی تجویز
بجلی و دیگر شعبوں کے لیے سبسڈی کے طور پر ایک ہزار 186 ارب روپے مختص
گرانٹس کی مد میں ایک ہزار 928 ارب روپے مختص
جاری اخراجات میں سے آزاد کشمیر کیلئے 140 ارب، گلگت بلتستان کیلئے 80 ارب، خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 80 ارب اور بلوچستان کے لیے 18 ارب روپے رکھنے کی تجویز
مزید بیروزگار کرنے کا کارنامہ مسلم لیگ کی حکومت کر سکتی ہے بجائے نوکری دینے کے نوکریاں چھینے کا منصوبہ ہے
کابینہ نے 10 وزارتوں کی رائٹ سائزنگ کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، جو اب عملدر آمد کے مرحلے میں ہیں، 6 ڈویژنز کو ضم کر کے 3 بنا دی گئی ہیں، 45 کمپنیوں اور اداروں کو پرائیویٹائز ضم یا بند کیا جارہا ہے جب کہ تقریباً 40 ہزار خالی آسامیوں کوختم کر دیا گیا ہے، اگلی 10 وزارتوں کے لیے رائٹ سائزنگ کی سفارشات کو حتمی شکل دی جاچکی ہے جب کہ مزید 8 وزارتوں کے حوالے سے تجاویز زیر غور ہیں۔
بجٹ میں 850 سی سی کی مقامی گاڑیاں، بیکری آئٹمز، کھاد اور کیڑے مارادویات مہنگی ہونے کا امکان مقامی مینوفیکچرڈ کاروں پر جی ایس ٹی ساڑھے 12 سے بڑھ کر 18 فیصد ہونے کی توقع ہے-بیکری آئٹمز، کھاد اور کیڑے مار ادویات مہنگی ہونے کا امکان ہے۔آئی ایم ایف نے تینوں چیزوں پر ٹیکس لگانے پر زور دیا ہے۔ سابق فاٹا ریجن کو حاصل چھوٹ ختم کرکے بارہ فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران پنجاب میں زراعت اور کسان ، دونوں کی حالت ناقابل بیان ہے ۔ پنجاب حکومت کے زیادہ تر منصوبے شہری آبادیوں کے گرد گھوم رہے ہیں۔ حکومت کا ایک حصہ اس بات پر تالیاں بجا رہا ہے کہ آٹا روٹی سستی ہو رہی ہے مگر یہ لوگ اس حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں کہ گندم کے کاشتکاروں کو جس خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کے اثرات مستقبل میں کیا ہوں گے ،کسان کو رواں برس کھیت میں پڑی گندم کی قیمت1900 روپے تا2200 روپے فی من ملی ہے جس نے فصل کی لاگت کاشت بھی پوری نہیں کی۔ وزیر اعلی کے اعلان کردہ ’’ای ڈبلیو آر سسٹم‘‘ اور ’’ فلورملز کیلئے خصوصی قرضہ سکیم‘‘ کے منصوبے بروقت شروع ہی نہیں ہو سکے۔
رواں برس تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ بیوپاریوں نے کسانوں کو لوٹا ہے کیونکہ بیوپاری تو خود مظلوم بن چکے ہیں۔ ان کی بڑی بڑی رقوم پھنس گئی ہیں۔ کسان نئی فصل کی کاشت کیلئے پھر سے قرض مانگ رہے ہیں۔ اسی طرح سے کپاس کی زیر کاشت فصل کے حالات بھی کمزور دکھائی دے رہے ہیں، سبزیوں کی حالت یہ ہے کہ منڈیوں میں بھنڈی50 روپے فی من قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔ مکئی کو ماضی میں منافع بخش فصل سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ بھی کسان کیلئے خوشحالی نہیں لا رہی ہے۔ بادی النظر میں زرعی معیشت ملکی تاریخ کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے جو انتہائی خطرناک ہے۔ اگر زرعی سیکٹر گراوٹ کا شکار ہوگا تو دیگر سیکٹر بھی شدید متاثر ہوں گے۔
No comments yet.