صدر مملکت آصف علی زرداری کا عالمی یومِ آبادی 2025 کے موقع پر پیغام
خاندانی منصوبہ بندی کی معیاری سہولیات کی رسائی خصوصاً دیہی علاقوں تک بڑھانا ہوگی۔
آج جب ہم عالمی یوم آبادی منا رہے ہیں تو یہ بہترین وقت ہے کہ ہم آبادی کے بدلتے ہوئے رجحانات پر غور کریں اور اس عزم کا اعادہ کریں کہ ہم اپنے تمام شہریوں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کو یقینی بنائیں گے۔
اس سال کا موضوع "ایک منصفانہ اور پُرامید دنیا میں اپنی پسند کا خاندان تشکیل دینے کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانا" ہمارے آبادیاتی منظرنامے کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ ہماری آبادی 24 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ایسے وقت میں مستقبل گیر سوچ پر مبنی تحقیق اور مؤثر پالیسیوں کو اپنانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ نوجوانوں پر مشتمل بڑی آبادی ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، ضروری ہے کہ انہیں معیاری تعلیم، صحت، روزگار کے مواقع اور خود اختیاری فراہم کی جائے۔
تاہم، آبادی میں تیزفتار اضافہ ہمارے قومی ترقیاتی عمل میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے جس سے وسائل، صحت و تعلیم کے نظام اور عوامی خدمات کے شعبے پر بے پناہ دباؤ ہے۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، ماحولیاتی تنزلی، جنگلات کی کٹائی اور صحت و تعلیم کا بوجھ اس عدم توازن کی علامات ہیں جو آبادی اور وسائل کے درمیان موجود ہے۔
آبادی میں مسلسل اضافے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور ہمہ گیر حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی معیاری سہولیات کی رسائی خصوصاً دیہی علاقوں تک بڑھانا ہوگی۔ خواتین کی تعلیم، روزگار اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے، کیونکہ خواتین کی خودمختاری خاندانی فیصلوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے
حکومت کو "توازن "کے اصول پر مبنی ایک جامع آبادیاتی ایجنڈے کو فروغ دینا ہوگا ہو، یعنی آبادی میں اضافہ اور وسائل کی دستیابی کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنا ہو گی۔ یہ نکتہ ٔنظر تمام متعلقہ فریقوں ، بشمول مذہبی رہنماؤں، پالیسی سازوں اور ترقیاتی شراکت داروں کی حمایت ہی سے ممکن ہے۔ ایک صحت مند، مساوات پر مبنی اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مشتمل مستقبل کی طرف بڑھنا ہمارے اجتماعی عزم کا اظہار ہے ۔
اسی طرح اس عمل میں تمام کمیونٹیز کی شمولیت بھی انتہائی اہم ہے۔ جب برادری کے رہنما، بزرگ اور سول سوسائٹی کے ادارے خاندانی منصوبہ بندی کے فوائد کو اجاگر کرتے ہیں، تو عوامی رویوں میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔ اس حوالے سے میڈیا بھی نہ صرف عوام میں شعور اجاگر کر سکتا ہے بلکہ صحت مندانہ طرزِ زندگی کو فروغ دینے میں مؤثر کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔
اس سلسلے میں ہمیں بین الاقوامی کامیاب تجربات سے بھی سیکھنا چاہیے، جیسے کہ خاندانی منصوبہ بندی کو بنیادی صحت کے نظام میں ضم کرنا، تولیدی صحت کے بارے میں کمیونٹی کی سطح پر آگاہی بڑھانا، نچلی سطح پر تربیت یافتہ خواتین صحت کارکنوں کی خدمات حاصل کرنا اور عوامی آگاہی کے روّیوں میں تبدیلی کے لیے میڈیا کا مؤثر استعمال کرنا۔ یہ تمام اقدامات آبادی میں توازن لانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں
میں تمام اداروں ، سرکاری محکموں، سول سوسائٹی، تعلیمی حلقوں، نجی شعبے اور میڈیا سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگاہی پھیلانے، تولیدی صحت کی سہولیات کو وسعت دینے اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے قومی مشن میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments yet.