جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

وفاقی حکومت صحافی برادری   کی قدر کرتے ہوئے   اپنی کچھ پالیسیز  پر نظرِ ثانی کرے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

پی پی پی چیئرمین کا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یو جے) کو 75 سال مکمل ہونے پر  وزیراعلی ہاؤس سندھ میں منعقد تقریب سے خطاب

Editor

10 ماہ قبل

Voting Line

کراچی : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے  حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران ڈجیٹل محاذ پر پاکستان کی صحافی برادری اور  جنریشن زی کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں ملک و قوم کا اثاثہ قرار دیا ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یو جے) کو 75 سال مکمل ہونے پر  وزیراعلی ہاؤس سندھ میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آزادیِ اظہار کے حق کے تحفظ اور  آمرانہ ادوار میں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے  پی ایف یو جے کی طویل و شاندار جدوجہد قابل ستائش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ایف یو جے خود ایک تحریک ہے، جس میں صحافیوں کی ہر جنریشن نے اپنا حصہ مِلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم آر ڈی کی تحریک ہو یا اے آر ڈی کے تحت جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد، ملک بھر کی صحافی برادری ہمیشہ سیاسی کارکنوں اور جمہوریت پسند  سیاستدانوں  کے ساتھ ساتھ اور  قدم بقدم،  آزادیِ اظہار کے حق و  فریڈم آف پریس کے لیے  جدوجہد کرتی  رہی۔ انہوں نے کہا کہ اے آر ڈی کے تحت جدوجہد کے دوران اُنہیں وہ وقت یاد ہے کہ جب   اُس وقت کے آمر  نے  اپنے اقتدار کے آخری لمحات میں پابندیاں لگانی شروع کیں اور ٹیلی ویژن چینلز پہ بھی پابندیاں لگیں، تو شہید محترمہ بینظیر  بھٹو بھی صحافیوں کے ساتھ شان و بشانہ کھڑی تھیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستانی صحافیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ  میں آپ سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جس طریقے سے پاکستان کی میڈیا اور صحافیوں نے  جھوٹ اور ڈس انفارمیشن پر مبنی بھارتی بیانیئے  کا  عالمی سطح پر  مقابلہ کیا وہ قابلِ ستائش ہے۔  انہوں نے کہا کہ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ جس طریقے سے پاکستان کی ایئر فورس نے بھارت کو  6 -0  سے ہرایا، ویسے ہی ہماری صحافی برادری نے  بھارتی میڈیا  کو شکست دی۔ دنیا نے دیکھا کہ جب بھارت کے میڈیا کے بہت سینیئر  پرسنز اور میڈیا اینکرز  اپنی ریاست کے پروپگینڈسٹس بن کر   ڈس انفارمیشن اور جھوٹ پہ مبنی  براڈ کاسٹ  چلا رہے تھے تو وہیں پاکستان کی ٹرانسپیرنسی کی وجہ سے ہمارے صحافی کی کریڈیبلٹی کی وجہ سے، فیکٹ پر مبنی رپورٹنگ کے وجہ سے اور صحیح جواب دینے کی وجہ سے پاکستان نے وہ بیانیہ کا جنگ، جنگ کے دوران، بھی جیتا اور شکر الحمدللہ آج تک  ہم ا جیتتے آرہے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ  بھارت سے جنگ سے پہلے  ڈیجیٹل میڈیا پر پابندیاں تھیں، لیکن جنگ کے دوران اندازہ ہوا کہ اصل میں یہ   سارے ہمارے اثاثے ہیں۔  ہم شکر گزار ہیں کہ حکومت نے جنگ کے دوران سوشل میڈیا سے پابندیاں ہٹائیں اور میرے خیال میں آج تک وہ پابندیاں واپس نہیں لگائی گئی ہیں۔ انہوں نے بھارت کے خلاف جنگ کے دوران ڈجیٹل محاذ پر  پاکستان کی "زی جنریشن" کو  نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ دکھانے پر  خصوصی طور خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت صحافی برادری   کی قدر کرتے ہوئے   اپنی کچھ پالیسیز  پر نظرِ ثانی کرے گی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے صحافی برداری اور ان کی نمائندہ قیادت سے مخاطب ہوتے ہوئے زور دیا کہ وہ ڈس انفارمیشن اور مِس انفارمیشن کی روکتھام کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں اور خصوصاً اس حوالے سے حکومتِ سندھ کو قانونسازی کے لیے مدد فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ  ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن باقاعدہ ایک ہتھیار بن چکا ہے اور یہ ہتھیار کبھی کبھار انتہا پسند اور دہشت گرد اور ا نفرت پھیلانے والے استعمال کرتے ہیں، اور  ہمارا دشمن ملک بھارت بھی یہی ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جہاں  صحافیوں کے تحفظ  کے حوالے سے قانونسازی بہتر ہو جائے، وہیں انہیں  پی ایف یو جے کی مدد درکار ہے تاکہ ڈس انفارمیشن کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتِ سندھ  قانون سازی کر سکے اور  اپنے  شہریوں کو ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کی نقصان سے بچا سکے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن کو ہدایات دیں کہ وہ دیگر صوبوں کے صحافیوں کو سندھ کا دورہ کروائیں تاکہ پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت کے ترقیاتی اقدام سے ملک بھر کی عوام تک درست معلومات پہنچ سکے۔  انہوں نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ سندھ نے صحت کے شعبہ سمیت مختلف پبلک سروسز میں انقلابی اقدام متعارف کرائے ہیں، جبکہ 2022ع کے سیلاب متاثرین کے لیے 2.1 ملین گھروں کی تعمیر کا منصوبہ اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ صوبے کے  مسائل اور چیلنجز  تاریخی ہیں، جو بہت انویسٹمنٹ کے بعد اور سخت محنت کے بعد حل ہو سکتے ہیں۔   انہوں نے زور دیا کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف بلوچستان میں ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے  خصوصی توجہ دیں اور اقدام کریں۔ انہوں نے صحافی برادری پر زور دیا کہ وہ بلوچستان کا بھی دورہ کریں اور وہاں حکومت کو درپیش چیلنجز  کا خود جاکر جائزہ لیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے طلبہ کی اسکالر شپ کے پروگرام کو بھی سراہا۔ تقریب سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحافی برادری کی قیادت کو سندھی ٹوپی اور اجرک کے تحفے بھی پیش کیے۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry