نہ صرف سندھ، بلکہ پورا پاکستان شاہ لطیفؒ کے فکر سے رہنمائی لے کر مشکل سے مشکل حالات کا مقابلہ کرتا ہے: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری
صرف پاکستان ہی نہیں، بھارتی عوام بھی مودی کی جانب سے دریائے سندھ پر حملے کے خلاف ہیں۔
بھٹ شاہ / مٹیاری / حیدرآباد / کراچی (11 اگست 2025) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عظیم صوفی بزرگ و شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ صرف سندھ، بلکہ پورا پاکستان شاہ لطیفؒ کے فکر سے رہنمائی لے کر مشکل سے مشکل حالات کا مقابلہ کرتا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صرف پاکستان ہی نہیں، بھارتی عوام بھی مودی کی جانب سے دریائے سندھ پر حملے کے خلاف ہیں۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے سالانہ سہ روزہ عرس کے آخری دن پر منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے خاندان کی جانب سے شاہ لطیفؒ کی دربار پر حاضری دینے اور ان کے فکر سے فیضیاب ہونے کا سلسلہ نسل در نسل چلتا آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے بعد گذشتہ کئی سالوں سے وہ خود، حضرت شاہ لطیفؒ کی دربار پر حاضر ہو رہے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ باعثِ فخر ہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران ہر پاکستانی نے اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی پاکستان نے شروع تو نہیں کی تھی، لیکن اس اختتام پر ضرور پہنچایا۔ یہ فخر کی بات ہے کہ یہ جنگ پاکستان نے شروع نہیں کی تھی، لیکن (اُسے) مکمل آپ نے کیا۔ پورے ملک نے ایک ہوکر، اتحاد کے ساتھ ہر محاذ پر جواب دیا تھا۔ سب سے بڑھ کر ہماری افواج نے، ہمارے ایئر فورس نے جس انداز سے دشمنوں کو جواب دیا وہ تاریخی ہے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ جس طرح پاکستان کے ہر شہری نے، سوشل میڈیا پر نوجوانوں نے، اور سفارتکاروں نے اپنے ملک کا پیغام اور سچ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران تمام سیاسی جماعتوں اور قوتوں نے بھی اپنے اختلافات بھول کر اپنے وطن کا دفاع کیا ۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حالیہ جنگ میں عبرت ناک شکست کے بعد بھارت نے ایک اور بزدلانہ سوچ کے ساتھ پاکستان پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے پانی پر، پاکستان کے سندھو پر ایک ایسا حملہ کیا ہے جو اپنے دور میں ایک تاریخی حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے سندھ تاس معاہدہ کے متعلق جو اعلان کیا ہے وہ اِس خطے کی تاریخ میں اِس دریا پر سب سے بڑا حملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بھی دریائے سندھ پر اِس قسم کا حملہ ہوا ہے، تو سندھ کے عوام ہمیشہ صفِ اول کا کردار ادا کرتے ہوئے سب سے پہلے آواز اٹھاتے ہیں اور اپنا دریا کو بچانے کے لیے میدان میں نکل آتے ہیں۔ پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ نہ صرف اس ملک کا واحد بڑا آبی ریسورس ہے، بلکہ یہاں کی عوام کی اُس سے پوری تاریخ بھی وا بستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈس سویلائزیشن اسی دریاء سے جڑی ہوئی ہے ، اور جب مودی دریائے سندھ پر حملہ کرنے کے اعلان کرتا ہے تو یہ ہماری تہذیب پر، ہماری تاریخ اور ہماری ثقافت پر حملہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ چاہے وہ پاکستان کے عوام ہوں، چاہے وہ بھارت کے اپنے عوام ہوں، وہ اُن کی حکومت کا اس فیصلے کے خلاف ہے۔ اپنی سفارتی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہوں نے امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں دریائے سندھ کے متعلق پاکستانی موقف کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ جنگ شروع ہوئی، تو میں نے اِس دریا کے کنارے پر کھڑا ہو کر اعلان کیا تھا، اِس ملک کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ میں مودی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کروں گا اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے اس کو بے نقاب کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت جو پاکستان کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ کر رہی تھی، اس کا منہ توڑ جواب دیا اور پاکستان کے 200 ملین لوگوں کا پانی بند کرنے کی دہمکیوں پر دنیا بھر میں آواز اٹھائی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کو بچانے کی جدوجہد میں انہیں عوامی حمایت و تعاون کی ضرورت ہے ۔ ہم سب کو ایک ہو کر مودی کی بربریت پر، مودی کے اس حملے کے بارے میں، مودی کے اس ارادے کے بارے میں، آواز اٹھانا ہے اور جدوجہد کرنا ہے تاکہ اس ظلم کو بھی ہم روک سکیں۔انہوں کہا کہ پاکستان کی عوام میں اتنی طاقت ہے کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرکے اُن سے 6 دریا واپس بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کی بات کرتا ہے، لیکن بھارت اگر اس کے باوجود ہمیں جنگ پر مجبور کرتا ہے تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اگر جنگ چھیڑا گیا تو ہم شاہ عبدالطیف بھٹائِی کی دھرتی سے مودی سرکار کو بتانا چاہیں گے کہ ہم پیچھے نہیں ہٹتے، ہم جھکتے نہیں ہیں اور اگر آپ سندھُو کی طرف اس قسم کی حملہ کے بارے میں سوچیں گے تو پھر پاکستان کے ہر صوبے کے عوام آپ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
No comments yet.