جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

چودھری منظور اور حسن مرتضیٰ کا سیلاب کے انتظام میں حکومتی ناکامی پر اظہار برہم

پی پی پی رہنماؤں کا سیلاب متاثرین کو بے نظیر انکم سپورٹ کے ذریعے فوری امداد کا مطالب

Editor

8 ماہ قبل

 

 
 
 
 
 
 
 
لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں چودھری منظور احمد اور سید حسن مرتضیٰ نے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں اور اس کے دور رس اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ لاہور میں منعقدہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قصور کا دورہ کرکے براہ راست متاثرہ کسانوں سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کے اعلان میں غیر ضروری تاخیر کی گئی اور پہلے 72 گھنٹوں میں عالمی امداد کی اپیل میں بھی تاخیر ہوئی، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے صراحت کے ساتھ کہہ دیا کہ وہ بین الاقوامی امداد کی اپیل نہیں کریں گے۔
 
چودھری منظور احمد نے خبردار کیا کہ 2024 میں پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات میں تیسرے نمبر پر تھا جو اب پہلے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے ستلج، چناب اور راوی کے آس پاس کے علاقوں میں صرف تباہی اور بربادی نظر آتی ہے۔ پنجاب کی متعدد تحصیلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور صورتحال اتنی خراب ہے کہ پنجاب کے مسلسل تین سالوں کے بجٹ بھی اس نقصان کی تلافی نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ فصلیں چار سے پانچ فٹ ریت کے نیچے دب چکی ہیں اور دریائے ستلج میں تاریخ کا پہلا اس نوعیت کا سیلاب آیا ہے جو ساڑھے تین لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی تین مرتبہ لے کر آیا۔
 
چودھری منظور نے 2008 میں سوات کے بے گھر افراد کو نقد امداد فراہم کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ موجودہ سیلاب متاثرین کو بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے فوری نقد امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی خوددار شخص امداد لینے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا صرف امدادی سامان کی ترسیل کے علاوہ کچھ اور بھی کیا گیا ہے؟ ان کا مشورہ تھا کہ گاؤں کی سطح پر جمع بندی اور گرداوری کے ذریعے مدد پہنچائی جائے اور کسانوں کو فصلوں کا مناسب معاوضہ دیا جائے، بالکل ویسے ہی جیسے محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دور حکومت میں کیا تھا۔
 
پارٹی رہنما نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بین الاقوامی امداد کی اپیل اور متاثرین کو رقم فراہم کرنے میں ناقابل قبول تاخیر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے 2023 کے سیلاب کے فنڈز کا آزاد آڈٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے اطلاع دی کہ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سیلاب کے حوالے سے قراردادیں پیش کر دی ہیں اور پارٹی کا موقف یہ ہے کہ سیلاب کی موجودہ صورتحال میں وہ تعمیری تجاویز دینے تک خود کو محدود رکھے گی۔ پارٹی نے کسانوں کا ایک بڑا کنونشن منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
 
سید حسن مرتضیٰ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کسی قسم کا تقسیم یا انتشار نہیں پھیلانا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی اور کے جرائم کی سزا پاکستان میں بھگت رہے ہیں۔ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ جو لوگ سیلاب کا سامنا کر رہے ہیں، انہوں نے شاید اپنے روزانہ استعمال میں بھی اتنا پانی کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سیلاب زدہ لوگوں کو صرف پانی سے نکالنا ہی مکمل ریسکیو آپریشن نہیں کہلاتا، سب سے زیادہ نقصان مویشیوں اور لائیو سٹاک کا ہوتا ہے۔
 
حسن مرتضیٰ نے کہا کہ یہ صورتحال غلط منظوری کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن وفاقی اور پنجاب کی حکومتیں سیلاب کے انتظام میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بہتر انتظامات کی وجہ سے ماضی کی نسبت کم نقصان ہوا ہے، جہاں سندھ حکومت نے اپنے آبی راستوں کو بروقت کھولا اور سیلاب زدگان کو 21 لاکھ روپے فی گھر کی امداد فراہم کی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت کے آٹے، بھیک یا کسی قسم کی خیراتی امداد کی ضرورت نہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ لوگ سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ سینکڑوں ایکڑ رقبے کے مالک کسانوں کی ستر فیصد فصلیں زیر آب ہیں اور گنا، مکئی اور دھان کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک ماہ کی بجلی کی معافی کوئی مذاق نہیں ہے، کم از کم چھ ماہ کے بجلی کے بل معاف کرنے چاہئیں۔
 
حکومت پر تنقید جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کاشتکاروں کی بجائے درمیانی تاجروں اور دلالوں کی بات سنتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں جو چیز 20 ہزار میں ملتی ہے، وہی پاکستان میں 60 ہزار کی ہے اور بھارت اور پاکستان میں زرعی اجناس اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
 
چودھری منظور نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت زرعی ترقیاتی بینک، پاسکو اور یوٹیلٹی سٹورز بند کر رہی ہے، حالانکہ یہ ادارے سیلاب جیسی آفات میں انتہائی مفید ثابت ہوتے تھے۔ انہوں نے میڈیا کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے دن رات محنت کی ہے اور اب بھی کام جاری رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے حقیقی مسائل اب شروع ہو رہے ہیں اور حکومت نے بہت تاخیر کی ہے، عوام کے لیے جو فوری اقدامات ہو سکتے تھے وہ نہیں کیے گئے۔
 
آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے فوڈ سیکیورٹی کے اہم ادارے بیچنا شروع کر دیے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں ریاست کا مضبوط کردار برقرار رہنا چاہیے تاکہ قومی مصالح کا تحفظ ہو سکے۔ پریس کانفرنس میں فیصل میر، رانا جواد، علامہ یوسف اعوان، ڈاکٹر خیام حفیظ، ڈاکٹر خالد جاوید جان، چودھری لیاقت اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔
 
 
 
Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry