جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

جنرل سیکرٹری پی پی حکومت سید حسن مرتضی کا ساہیوال میں ورکرز کنونشن سے خطاب

جنرل سیکرٹری پی پی حکومت سید حسن مرتضی

Editor

ایک سال قبل

Voting Line

 

 

جنرل سیکرٹری پی پی حکومت سید حسن مرتضی کا ساہیوال میں ورکرز کنونشن سے خطاب 

 

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی) کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی نے ساہیوال میں منعقدہ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے ساتھ خوشی کا اتحاد ہے، نہ امید کا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 2002 اور 2008 میں ہماری حکومتیں بنتی تھیں، مگر ہمیں دانستہ طور پر اقتدار نہیں دیا گیا۔ اگر پنجاب میں یہ حکومتیں بن جاتیں تو پھر پاکستان پیپلز پارٹی کا راستہ نہیں روکا جا سکتا تھا۔  

 

پیپلز پارٹی ساہیوال کے زیر اہتمام ڈویژنل صدر غلام فرید کاٹھیا کی رہائش گاہ پر منعقدہ ورکرز کنونشن میں انفارمیشن سیکرٹری شہزاد سعید چیمہ، کمیٹی ممبران، سینئر رہنما میاں مصباح الرحمن، چوہدری اسلم گل، ثمینہ خالد گھرکی، اورنگزیب برکی، عثمان سلیم ملک، عائشہ نواز چوہدری، رانا عرفان، نسیم صابر چوہدری، رانا اشعر نثار، ناہید سحر کے علاوہ پیپلز پارٹی ساہیوال کے صدر ذکی چوہدری، جنرل سیکرٹری شفقت چیمہ، طاہر سندھو سمیت دیگر تنظیمی عہدے دار بھی موجود تھے۔ کنونشن میں نظامت کے فرائض عثمان ملک نے ادا کیے۔  

 

حسن مرتضی نے کہا کہ پہلے دن سے ہی پتہ تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ چلنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات اس قسم کے تھے کہ 8 فروری کے الیکشن کے بعد ایک ہنگامی پارلیمنٹ وجود میں آئی۔ پیپلز پارٹی نے سب سے پہلے تحریک انصاف سے کہا کہ آپ حکومت بنائیں، ہم آپ کو ووٹ دیں گے۔ انہوں نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور ملک کے اداروں کو تباہ کرنے اور جغرافیائی صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔  

 

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت کو اسرائیل یا انڈیا فنڈنگ کر رہا ہو تو ان کا ایجنڈا کیا ہو سکتا ہے؟ مرتضی نے کہا کہ سیکنڈ لارجسٹ پارٹی پی ایم ایل این تھی، اور ہم مجبوری میں ان کی طرف گئے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پیپلز پارٹی آج بھی سب سے بڑی اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت ہے۔  

 

انہوں نے کہا کہ آج بھی اسٹیبلشمنٹ یہ نہیں مانتی کہ اگر پیپلز پارٹی کو پنجاب میں سپیس ملے تو وہ زیادہ جگہ بنائے گی۔ اسی وجہ سے پیپلز پارٹی کو پنجاب میں بتدریج کمزور کیا گیا۔ مرتضی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کبھی بھی پرو اسٹیبلشمنٹ نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جس دن پیپلز پارٹی ختم ہو جائے گی، اس دن لیفٹ کے لیے کوئی سپیس نہیں بچے گی۔  

 

انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ کوئی الیکٹیبلز نہیں ہیں، آج پیپلز پارٹی صرف اپنے کارکنوں کو دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بھی ہمارا ہو گا۔  

 

 

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry