پی پی پی چنیوٹ کے زیر اہتمام ورکرز اجلاس
اجلاس میں یہ بھی تجویز کیا گیا کہ پارٹی میں تنظیمی اور پارلیمانی عہدے الگ الگ کیے جائیں اور کارکنوں کی داد رسی کا باقاعدہ فورم بنایا جائے۔ پارٹی کے کارکنوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی اور ضلعی قیادت ورکرز کو سنیں اور ان کی آواز چیئرمین تک پہنچائیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) چنیوٹ کے زیر اہتمام ورکرز اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرپرسن صوبائی ٹاسک کمیٹی برائے تنظیمی امور حسن مرتضیٰ نے کی۔ اجلاس میں پارٹی کے متعدد عہدیداران اور کارکنان نے شرکت کی اور ضلعی، تحصیل اور سٹی تنظیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔
اجلاس میں چیئرپرسن حسن مرتضیٰ نے کہا کہ اگر پارٹی کا ریوائیو نہ ہوا تو وہ بھی متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک خاندان ہے جس میں ہمیں ایک دوسرے کا نقطہ نظر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اہل چنیوٹ نے فیوڈلز کو ڈرائنگ رومز سے نکال کر میدان میں لانے کا کام کیا ہے اور ترنگا چنیوٹ میں دوبارہ لہرائے گا۔
حسن مرتضیٰ نے کہا کہ پارٹی کے کارکنوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتا اور پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ذاتی اختلافات کو چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کمزور ہوگی تو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی کمزور ہوں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارٹی کے مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا اور نفرتوں اور انتشار کو ختم کر کے محبتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں دیگر مقررین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ چودھری اسلم گل نے کہا کہ وسطی پنجاب کی تنظیم کو شہر شہر جانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف برائے اختلاف نہیں بلکہ پارٹی کے مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا۔
ڈپٹی جنرل سیکرٹری عثمان ملک نے ماڈریٹر کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ لیڈر اور کارکن وہ ہوتا ہے جو کم از کم 50 سے 100 اپنے جیسے کارکن بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے ساتھ اتحاد نے پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے۔
اورنگزیب برکی نے کہا کہ اتنے زیادہ ووٹ لینے پر اہل چنیوٹ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اہل چنیوٹ پوری پنجاب تنظیم کے لیے ماڈل ہیں۔
فیصل میر نے کہا کہ اتنے بحران کے باوجود آپ سب کا مضبوط ہونا جمہوریت کا حسن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جمہوری پارٹیوں میں عہدوں کی تبدیلی جاری رہتی ہے۔
سید کلیم علی امیر نے کہا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی ناکامی کی واحد وجہ ن لیگ سے اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اتحادی ہیں تو ہمیں ترقیاتی کاموں میں حصہ کیوں نہیں دیا جاتا۔
پی پی چنیوٹ کے جنرل سیکرٹری سید علی زیدی نے ضلعی تنظیم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ چنیوٹ میں فارم 47 کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو ہرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چنیوٹ سے جیتنا ہے تو ہمیں فرقوں اور برادریوں سے نکل کر تیر پر ٹھپا لگانا ہوگا۔
اجلاس میں یہ بھی تجویز کیا گیا کہ پارٹی میں تنظیمی اور پارلیمانی عہدے الگ الگ کیے جائیں اور کارکنوں کی داد رسی کا باقاعدہ فورم بنایا جائے۔ پارٹی کے کارکنوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی اور ضلعی قیادت ورکرز کو سنیں اور ان کی آواز چیئرمین تک پہنچائیں۔
اجلاس کے اختتام پر تمام ذیلی ونگز کو سالانہ کنونشن کرا کے مضبوط بنانے، پارٹی میں پیرا شوٹرز کی حوصلہ شکنی کرنے، اور سوشل میڈیا کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں عثمان ملک، چودھری اسلم گل، فیصل میر، اورنگزیب برکی، سید عنایت علی شاہ، عائشہ نواز چودھری، ارشد جٹ، عمر شریف بخاری، کلیم علی امیر، علی رضا زیدی، ڈاکٹر فخر النسا، ملک خلیل، گلفام جاوید، فیضان ملک، سید حسن شاہ، آفتاب لاشاری، فرحت پروین، عظمیٰ، شہزاد مسیح سمیت دیگر پارٹی عہدیداران اور کارکنان نے شرکت کی۔