کہیں دیر نہ ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔تحریر خالد رانا
نہ تو پنجاب میں خاطر خواہ تنظیمی کام ہو سکا ہے اور نہ ہی پیپلز پارٹی اپنا بیانیہ پنجاب میں مقبول عام کر سکی ہے۔ کارکن بھی مایوسی کا شکار ہوئے ہیں
کچھ دنوں سے پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کی قیادت کارکنوں کی تنقید کی زد میں ہے اور پنجاب میں پارٹی کی ناکامی کا ذمہ دار بھی انہیں ٹھہرایا جا رہا ہے یہ تنقید نجی محفلوں سے نکل کر اب سوشل میڈیا پر بھی آ گئی ہے اور اگر مرکزی قیادت فوری طور پر اس صورت حال کے تدارک کے لیے مناسب اقدامات نہیں اٹھاتی اور معاملات کے حل کی کوشش نہیں کرتی تو بات قومی میڈیا میں بھی موضع گفتگو ہو کر پارٹی کی ہزیمت کا باعث بن سکتی ہے۔ تاخیر مشکلات میں صرف اضافہ کا باعث ہو گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کی قیادت کے دو بڑے عہدوں یعنی صدر اور جنرل سیکرٹری پر جو شخصیات اس وقت فائز ہیں ان کی لیاقت، جرآت، قائدانہ صلاحییت ، وفاداری ، ذہانت ، کارکنوں سے محبت و الفت، کارکنوں کی تکریم اور انتھک محنت کا جذبہ کسی شک وشبہ سے بالا تر ہے۔ پارٹی کی ترویج کے لئے ان کی شبانہ روز محنت بھی قابل ستائش ہے۔ انفرادی طور پر بھی صدر پیپلز پارٹی وسطی پنجاب راجہ پرویز اشرف پاکستانی سیاست کے افق پر ایک مدبر کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا ان پر غیر متزلزل اعتماد ہے بلکہ انہیں پارٹی کی طرف سے پاکستان کا وزیر اعظم بن کر ملک کی قیادت کرنےکا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی کا سپیکر اور کئی بار وزیر رہنے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔
سید حسن مرتضی صاحب اپنے حلقے میں عوامی تائید رکھنے کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے فلور پر بھی ایک مقبول شخصیت اور ایک موثر آواز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی مختصر سی پارلیمانی پارٹی ہونے کے باوجود ایک دبنگ لیڈر اور مقرر کے طور پر ابھرے اور اسمبلی میں عوام کے اجتماعی مسائل کے بہترین وکیل رہے ہیں ۔ عوامی مقرر اور عوامی رہنما ہیں جسے معاشرہ کے تمام طبقات میں پذیرائی حاصل رہی ہے اور مظلوم عوام کی عوامی آواز بن کر ابھرے ہیں۔ ذرائع ابلاغ بالخصوص قومی ٹیلیویژن کے مختلف چینلوں پر پارٹی کا موقف اور بیانیہ مدبرانہ انداز میں پیش کرنے پر قادر ہیں۔ اپنے ذاتی وسائل بھی پارٹی کی ترویج کے لیے لگانے میں دریغ نہیں کرتے۔
دونوں رہنما انفرادی طور پر بہت شاندار شخصیات ہیں جن میں قائدانہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔
گو پنجاب کی اس موجودہ قیادت انفرادی طور پر قابل تحسین خوبیوں کی مالک ہے لیکن تنظیمی طور پر کہیں نہ کہیں کمی و کوتاہی کا تاثرملنا حیرت کی بات نہیں۔
مجھےلگتا ہے کہ راجہ پرویز اشرف پر وفاقی ذمہ داریاں اس قدر زیادہ ہیں اور وفاق میں مرکزی پارٹی کے افعال میں اس قدر مصروف ہیں کہ پنجاب کی تنظیم کے لئے چاہنے کے باوجود وقت نکالنے کے لئے قاصر ہیں پارٹی کے دوسری پارٹیوں سے مذاکرات ہوں یا حکومت سے مذاکرات ہوں وہ ان کا حصہ ہوتے ہیں ان کی دانشمندی اور ڈپلومیسی کے اپنے اور غیر سبھی معترف ہیں جہاں تک جناب حسن مرتضی کا تعلق ہے تو انہیں ان کے مشیروں نے دھڑوں کی سیاست کی الجھنوں کا شکار کرکے اپنے اصل مشن سے دور کر دیا ہے۔ گو ان دنوں انہوں نے بہت سے اضلاع کا دورہ کرکے تنظیمی کام کا آغاز کیا ہے لیکن اس میں بھی گروہی رکاوٹیں ہیں ۔ کارکنوں کے ہر برے بھلے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
انہی وجوہات کی بنا پر نہ تو پنجاب میں خاطر خواہ تنظیمی کام ہو سکا ہے اور نہ ہی پیپلز پارٹی اپنا بیانیہ پنجاب میں مقبول عام کر سکی ہے۔ کارکن بھی مایوسی کا شکار ہوئے ہیں جس کی مثال سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کی لیڈر شپ پر اکا دکا اور دبی دبی تنقید کا ظہور ہے گورنر ہاؤس میں طبقاتی تعصب اور پارٹی کارکنوں میں طبقاتی بعد نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ( اس میں شائد پنجاب پیپلز پارٹی کی قیادت کا کوئی ہاتھ نہ تھا) جس کا ملبہ بھی اسی قیادت پر گرا
یہ دبی دبی تنقید آہستہ آہستہ پرزور آوازوں میں تبدیل ہو جائے گی اور شور شرابہ بڑھ جائے گا جس سے پارٹی کے عوام میں امیج کا نقصان ہو گا۔ لاہور کی صدارت کے فیصلے میں تاخیر کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی ۔ دو کروڑ کے شہر میں پارٹی کو بنا قائد کے رکھنے کی کوئی عقلی دلیل سمجھ نہیں آتی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر بی بی شہید زندہ ہوتی تو ایک دن بھی لاہور کو بلا قائد نہ رکھتی۔
ایسی صورت میں جب پنجاب کی قیادت کارکنوں کی تنقید کی زد میں آ جائے اور اعتماد کھونے لگے تو اسے تبدیل کرکے متبادل قیادت کو سامنے لانا ہی مناسب فیصلہ ہو گا۔ نئی قیادت کا فیصلہ تو مرکزی قیادت نے کرنا ہے لیکن باقی اوصاف کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ ان کے پاس اپنے عہدے کے فرائض انجام دینے کے لئے وقت اور وسائل دونوں ہوں۔ ان میں تنظیم سازی اور اسے چلانے کی صلاحیت ہو اور کارکنوں کے ساتھ چلنے کی صلاحیت اور حوصلہ بھی رکھتے ہوں۔ ایسے میں کارکنوں کی رائے لینا بھی احسن ہو گا۔
یہ تحریر خالد رانا کی فیس بک وال سے لی گئی ہے۔
No comments yet.