آئی ایم ایف وفد کے دورے کی مصروفیات کو منظر عام نہ لانے کا فیصلہ
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف وفد آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو اقدامات اور اخراجات پر کنٹرول سے متعلق مذاکرات بھی کرے گا۔
پاکستانی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دورے کی مصروفیات کو عوامی سطح پر نہ لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ متعلقہ ذرائع کے مطابق، وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف وفد کے دورے کے لیے کوئی تحریری شیڈول جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
**ملاقاتوں کی تفصیلات:**
روزنامچہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف وفد کی ملاقاتوں کی معلومات صرف متعلقہ محکمے کو فون کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد دورے کے حساس پہلوؤں کو عوامی سطح پر نہ اُجاگر کرنا ہے، جبکہ ضروری معلومات کو محدود دائرے میں ہی رکھا جائے گا۔
**دورے کا پس منظر:**
یاد رہے کہ آئی ایم ایف کا وفد گزشتہ روز پاکستان پہنچا تھا۔ اس وفد کا بنیادی مقصد پاکستانی حکام کے ساتھ گڈ گورننس اور کرپشن کے تخلیصی جائزے کے حوالے سے بات چیت کرنا ہے۔ وفد پاکستان میں سال 2025-26 کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لے گا اور گورننس سے متعلق تکنیکی معاونت پر فالو اپ مذاکرات کرے گا۔
**آئندہ مذاکرات اور تجاویز:**
مزید برآں، ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف وفد آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو اقدامات اور اخراجات پر کنٹرول سے متعلق مذاکرات بھی کرے گا۔ یہ وفد وزارت خزانہ کے حکام کے ساتھ مل کر بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے تجاویز تیار کرے گا، جس سے ملکی معاشی استحکام اور مالی نظم و نسق میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس اہم دورے کے بعد آئندہ کی مذاکراتی کارروائیوں پر قریبی نگاہ رکھی جائے گی تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ پاکستانی معیشت اور مالیاتی پالیسیوں میں کیا تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔
No comments yet.