پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن جہاں آراء منظور وٹو کا بین المذاہب ہم آہنگی کی تقریب سے خطاب
وائس چیئرپرسن نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی صرف برداشت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے، انسانی وقار کا احترام کرنے اور بقائے باہمی کو فروغ دینے کا عملی جذبہ ہے
پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن جہاں آراء منظور وٹو نے لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک بامقصد تقریب میں خصوصی شرکت کی، جس کا اہتمام سینٹر فار لا اینڈ جسٹس کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی خیال داس کوہستانی، مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ جہاں آراء منظور وٹو نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں کا حسین امتزاج ہے، اور یہی تنوع ہماری اصل طاقت ہے۔ وائس چیئرپرسن نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی صرف برداشت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے، انسانی وقار کا احترام کرنے اور بقائے باہمی کو فروغ دینے کا عملی جذبہ ہے۔ وائس چیئرپرسن نے پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے مختلف پروگرامز جیسے زیورِ تعلیم، آغوش، مساوات، ہم قدم، نئی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام منصوبوں میں صرف اور صرف غربت کے اسکور کی بنیاد پر مستحق افراد کو شامل کیا جاتا ہے، مذہب، زبان، صنف یا کسی بھی اور وابستگی کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ وائس چیئرپرسن نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان میں اقلیتیں بعض سنگین مسائل جیسے جبری مذہب کی تبدیلی، کم عمری کی شادی اور استحصال کا سامنا کر رہی ہیں، جن کے حل کے لیے مزید فعال اقدامات اور پالیسی سطح پر سنجیدہ کام کی ضرورت ہے۔ جہاں آراء منظور وٹو نے مذہبی رہنماؤں کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز معاشرتی ہم آہنگی، بھائی چارے اور عدل و انصاف کے فروغ میں تبدیلی لا سکتی ہے۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے کردار اور عمل سے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش جاری رکھیں گے جہاں ہر مذہب، ہر طبقے اور ہر زبان سے تعلق رکھنے والا فرد خود کو محفوظ، برابر اور باوقار محسوس کرے۔
No comments yet.