وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا لاہور چیمبر کا دورہ، اجلاس سے خطاب
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا لاہور چیمبر کا دورہ، اجلاس سے خطاب
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا لاہور چیمبر کا دورہ، اجلاس سے خطاب
صدر لاہور چیمبر میاں ابوذر شاد، سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان ، نائب صدر شاہد نذیر چودھری ، سارک چیمبر کے نائب صدر میاں انجم نثارنے بھی خطاب کیا۔
ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران، دیگر چیمبرز کے عہدیداران، ان لینڈ ریونیو افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب
ہم پبلک سرونٹ ہیں ، چیمبرز کے پاس آکر مسائل سن اور حل کررہے ہیں۔
فنانسنگ کاسٹ، بجلی کی قیمت اور ٹیکسیشن میں بہتری آئے گی تو انڈسٹری چلے گی۔
وزیراعظم معیشت کو لیڈ کررہے ہیں۔ آپ جلد نتائج دیکھیں گے۔
معدنیات اور آئی ٹی سیکٹر ملک کے لیے گیم چینجر ثابت ہونے جارہے ہیں۔
کاپر ہمیں وہی فائدہ دے سکتا ہے جو نکل سنگاپور کو دے رہا ہے۔ سنگاپور اس مد میں بائیس ارب ڈالر کی برآمدات کررہا ہے۔
بیرونی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے منافع کی وطن واپسی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کردی ہیں۔
فارن انویسٹر کا اعتماد بڑھا ہے۔
یقینی بنارہے ہیں کہ مہنگائی میں کمی کا فائدہ عام آدمی کو ہو۔ مڈل مین کو فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
پاکستانی مصنوعات بہترین اور گلوبل برانڈز بن سکتی ہیں۔
جی سی سی ، ایتھوپیا اور دیگر ممالک پاکستان سے برآمدات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
ٹیکس کا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر زیادہ ہے، تنخواہ اکاﺅنٹ میں آتے ہی ٹیکس کٹ جاتا ہے۔ انہیں ریلیف دیں گے۔
چوبیس قومی ادارے پرائیویٹائز کرنے کو کہہ دیا ہے۔
ہیومن انٹرایکشن کم کیے بغیر مسائل حل کرنا ممکن نہیں۔
ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 13فیصد تک بڑھا کر دیگر سیکٹرز کو ریلیف دیا جاسکتا ہے۔
صدر لاہور چیمبر میاں ابوذر شاد
مشکل ترین حالات سے معیشت کو نکالنا حکومت کا بڑا کارنامہ ہے ۔
بجلی کی قیمتوں میں کمی خوش آئند، پیداواری لاگت کم اور ایکسپورٹس میں اضافہ ممکن ہے۔
مہنگائی 20.7% سے کم ہو کر 0.7% پر آنا ایک تاریخی سنگ میل ہے۔
یو اے ای اور سعودی عرب کی سپورٹ ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔
صنعتی لاگت میں کمی، ٹیکس ریفارمز اور تجارتی حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انڈسٹری کی بحالی کے لیے حکومت اور چیمبرز کے قریبی روابط ضروری ہیں۔
سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریگولیٹری رکاوٹیں ختم کی جائیں ۔
صنعتی ترقی کے لیے طویل المدتی پالیسی کی ضرورت ہے ۔
پالیسی سازی میں پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کیا جائے۔
روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لیے اقدامات اٹھانا ہونگے۔
برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
سینئر نائب صدر لاہور چیمبر انجینئر خالد عثمان
معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اقتصادی پالیسیوں تسلسل کو یقینی بنایا جائے اوران کو کم از کم 10 سال کے طویل مدتی فریم ورک کے ساتھ ڈیزائن کیا جانا چاہیے۔
سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (SIDC) 1.8% کی شرح پر لگایا جاتا ہے جس کا ریفنڈ کلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں اپنی برآمدی مسابقت بڑھانے کے لئے ایکسپورٹرز پر سے اس سیس کو ختم کردینا چاہیے۔
نجی شعبہ سے تعلق رکھنے والی ایسی کمپنیاں جوجدت اور تکنیکی ترقی کی غرض سے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (R&D) پر اخراجات کرتی ہیں انہیں یہ فنڈز اپنے قابلِ ٹیکس آمدنی سے نکالنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
نائب صدر لاہور چیمبر شاہد نذیر چودھری
شاہد نذیر چودھری: برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی کے لیے انڈسٹری کو سہولتیں دی جائیں۔
غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مقامی سرمایہ کاروں کو بھی سہولیات دی جائیں۔
سارک چیمبر نائب صدر میاں انجم نثار
معاشی معاملات میں کاروباری برادری کی شرکت بڑھائی جائے۔
پالیسیاں تشکیل دیتے وقت شامل مشاورت کیا جائے۔
No comments yet.