چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا سیول میں منعقدہ* *ورلڈ سمٹ 2025 سے خطاب پُرامن اور خوشحال عالمی مستقبل کے لیے اخلاقی کثیرالجہتی اور پارلیمانی سفارت کاری پر زور*
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا سیول میں منعقدہ* *ورلڈ سمٹ 2025 سے خطاب پُرامن اور خوشحال عالمی مستقبل کے لیے اخلاقی کثیرالجہتی اور پارلیمانی سفارت کاری پر زور*
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا سیول میں منعقدہ* *ورلڈ سمٹ 2025 سے خطاب پُرامن اور خوشحال عالمی مستقبل کے لیے اخلاقی کثیرالجہتی اور پارلیمانی سفارت کاری پر زور*
سیول جنوبی کوریا۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے سیول میں منعقدہ "ورلڈ سمٹ 2025" میں اہم خطاب کیا، جو اقوام متحدہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا۔ اس عالمی اجلاس میں 150 ممالک کے 500 سے زائد مندوبین اور 45 پارلیمانی اسپیکرز نے شرکت کی۔ اجلاس کا مرکزی موضوع "عالمی نظام کو درپیش عصری چیلنجز: امن و خوشحالی کے نئے دور کا قیام"۔
اپنے خطاب میں چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے عالمی اتحاد، جامع ترقی اور اخلاقی کثیرالجہتی کی فوری ضرورت پر زور دیا، اور دنیا کے رہنماؤں کو انصاف پر مبنی طرز حکمرانی—خواہ وہ معاشی ہو، ماحولیاتی یا سماجی کے تصور کا ازسرنو جائزہ لینے پر زور دیا ۔
انہوں نے سوال اٹھایا کیا ہمیں اُن لوگوں کے طور پر یاد رکھا جائے گا جو بحرانوں پر صرف بحث کرتے رہے، یا اُن کے طور پر جنہوں نے ان مسائل کو حل کیا؟۔
انہوں نے پرانے تصورات سے ہٹ کر ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا، جو انسانیت اور کرۂ ارض کے درمیان ایک نیا رشتہ قائم کرے۔
چیئرمین گیلانی نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا، جن میں 2030 تک 60 فیصد توانائی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف، ماحولیاتی نظام کی بڑے پیمانے پر بحالی، اور موسمیاتی لحاظ سے غیر محفوظ ممالک کے لیے قرضوں میں نرمی کی وکالت شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا عالمی اخراج میں حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے لیکن یہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں سرفہرست ہے—
بطور بانی چیئرمین "انٹر پارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس" (ISC)، گیلانی نے عالمی تقسیم کو ختم کرنے میں پارلیمانی سفارت کاری کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی، اور ISC کے مشن کو "یونیورسل پیس فیڈریشن" (UPF) کے مشن سے ہم آہنگ قرار دیا جو باہمی احترام، شمولیت اور بین الاقوامی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مل کر پُرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور منصفانہ عالمی نظام کے فروغ کے لیے عملی ڈھانچے تیار کر سکتے ہیں۔"
انہوں نے بین الاقوامی اداروں کو باہمی اعتماد اور تعاون پر مبنی "اخلاقی کثیرالجہتی" میں ڈھالنے کی تجویز بھی پیش کی، جو اقوام متحدہ کے اصل مقصد کی عکاسی کرے۔
ایک کوریائی ضرب المثل کا حوالہ دیتے ہوئے—"ایک ہی ضرب سے مجسمہ نہیں تراشا جا سکتا"—انہوں نے دنیا کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ تعاون، مشترکہ ذمہ داری، اور مؤثر اقدامات کے ذریعے ایک نیا مستقبل تراشیں۔
اپنا خطاب ختم کرتے ہوئے انہوں نے یونیورسل پیس فیڈریشن اور اس کی شریک بانی ڈاکٹر حک جا ہان مون (مدر مون) کو امن کے فروغ کے لیے ان کی انتھک کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا۔
No comments yet.