پنجاب اسمبلی میں ممتاز علی خان چانگ کا احتجاج، پولیس گردی کی شدید مذمت
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ پولیس حکام اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے
لاہور (پنجاب اسمبلی) – پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی ممتاز علی خان چانگ نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران پولیس گردی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ عید سے اب تک ان کے گھر پر دو مرتبہ پولیس چھاپے مار چکی ہے، جس میں ان کے گھر کی پرائیویسی پامال کی گئی اور بے گناہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔
ممتاز چانگ کا کہنا تھا:
"کل صبح 5 بجے میری سیکورٹی واپس بلائی گئی اور 6 بجے میرے گھر پر پولیس نے دھاوا بول دیا۔ پانچ بے گناہ افراد کو زبردستی اٹھا کر لے جایا گیا۔ یہ سب کچھ ایک منظم سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔"
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈی پی او رحیم یار خان کی ذاتی رنجش کی بنا پر یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل انہوں نے پنجاب اسمبلی میں دو کرپٹ ایس ایچ اوز کے خلاف ثبوت پیش کیے تھے، جن کی بنیاد پر ان افسران کے خلاف انکوائری ہوئی اور بالآخر ان کی برطرفی عمل میں آئی۔
"اب انہی انکشافات کا بدلہ مجھ سے پولیس گردی کی صورت میں لیا جا رہا ہے،" ممتاز چانگ نے کہا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ پولیس حکام اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے، اور منتخب نمائندوں کو ان کے آئینی تحفظات فراہم کیے جائیں۔
اسمبلی میں ان کی تقریر کے دوران دیگر اپوزیشن ارکان نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا۔
No comments yet.