دریائے سندھ بچاؤ تحریک: بلاول بھٹو زرداری کا تاریخی خطاب
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز حیدرآباد کے تاریخی جلسہ عام میں جو پیغام دیا، وہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے ایک واضح سیاسی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
دریائے سندھ کے تحفظ کا عزم اور پیپلز پارٹی کی جمہوری جدوجہد
حیدرآباد — ۱۹ اپریل ۲۰۲۵
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز حیدرآباد کے تاریخی جلسہ عام میں جو پیغام دیا، وہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے ایک واضح سیاسی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اُن کا خطاب جمہوریت، صوبائی خودمختاری، اور عوامی مفادات کے تحفظ کی ایک جامع عکاسی تھا، جس میں وفاقی حکومت کے متنازعہ آبی منصوبوں سے لے کر کسانوں کے حقوق تک تمام اہم مسائل پر روشنی ڈالی گئی۔
دریائے سندھ پر ۶ نہروں کی تعمیر: "ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے"
چیئرمین بلاول نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ دریائے سندھ پر ۶ نئے کینالوں کے منصوبے سے فوری طور پر دستبردار ہو۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ نہ صرف پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم کو جنم دے گا بلکہ "وفاق کو کمزور کرنے" اور صوبوں کے درمیان تناؤ بڑھانے کا باعث بنے گا۔ اُنہوں نے واضح کیا: "ہماری جدوجہد شہید بینظیر بھٹو کے ورثے کا تسلسل ہے۔ جس طرح اُنہوں نے ۱۹۹۰ کی دہائی میں آبی انصاف کے لیے قربانی دی، آج بھی پی پی پی عوامی مفادات پر سودے بازی کی اجازت نہیں دے گی۔"
جمہوریت کی روایت اور عوامی مینڈیٹ
این اے ۲۱۳ عمرکوٹ کے ضمنی انتخاب میں ۱۷ جماعتوں کے اتحاد کے خلاف پی پی پی کی شاندار فتح کو بلاول نے عوامی مینڈیٹ کی تجدید قرار دیا۔ اُنہوں نے مخالفین کو یاد دلایا کہ **"جمہوریت صرف اقتدار کی دوڑ نہیں، بلکہ اخلاقی اقدار کی پاسداری ہے"**، اور نواب یوسف تالپور کی اہلیہ کو بلامقابلہ کامیاب نہ کرانا اسی اصول کی خلاف ورزی تھی۔
کسان دشمن پالیسیوں پر تنقید
وفاقی حکومت کی زرعی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کسانوں کو گندم خریدنے اور سبسڈی دینے سے روک کر ان کے ساتھ دشمنی کی ہے۔ اُنہوں نے زور دے کر کہا: "جب صدر زرداری کے دور میں پاکستان گندم برآمد کررہا تھا، تو آج کی حکومت کسانوں کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا رہی ہے۔"
قومی یکجہتی کو خطرہ: "دہشت گردی اور صوبائی تناؤ ایک ساتھ نہیں چل سکتے"
چیئرمین نے متنبہ کیا کہ ملک میں دہشت گردی کے بحران کے درمیان صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ ایک نیا خانہ جنگی کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ اُن کا مؤقف تھا: "ہم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوکر لڑنا چاہتے ہیں، لیکن اگر وفاق صوبوں کے حقوق سلب کرے گا، تو یہ اتحاد کیسے ممکن ہوگا؟"
احتجاج کا اعلان: ۲۵ اپریل کو سکھر میں تاریخی جلسہ
پی پی پی نے ۲۵ اپریل کو سکھر میں احتجاجی جلسے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ بلاول نے کہا: "ہماری تحریک صرف سندھ تک محدود نہیں—یہ پورے پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔"
عوامی طاقت ہی حتمی طاقت ہے
بلاول بھٹو زرداری کا خطاب ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ پی پی پی کی سیاست کا محور عوامی خدمت اور آئینی حقوق کا تحفظ ہے۔ اُن کی جانب سے وفاقی حکومت کو دیا گیا چیلنج یہ ظاہر کرتا ہے کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کی بجائے اسے سننا ضروری ہے۔ اگر وفاق سندھ کے پانی جیسے حساس معاملے پر یک طرفہ فیصلے کرتا رہا، تو صوبائی یکجہتی کے بجائے انتشار ہی ملے گا۔ وقت آگیا ہے کہ اسلام آباد سندھ کی آواز کو سمجھے—ورنہ تاریخ کے فیصلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
No comments yet.