جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

اگر ملک کے بڑے سیاسی قائدین اور فوجی قیادت ایک ساتھ مذاکرات کریں تو پاکستان کے مسائل ایک ہی دن میں حل ہو سکتے ہیں: ندیم افضل چن

موجودہ نظام نہیں چل سکتا اور سیاست کو دانستہ طور پر گالی بنایا جا رہا ہے۔

Editor

ایک سال قبل

Voting Line

موجودہ نظام نہیں چل سکتا اور سیاست کو دانستہ طور پر گالی بنایا جا رہا ہے"

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) - پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما ندیم افضل چن نے ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملک کے بڑے سیاسی قائدین اور فوجی قیادت ایک ساتھ مذاکرات کریں تو پاکستان کے مسائل ایک ہی دن میں حل ہو سکتے ہیں۔

سماء ٹی وی کے معروف پروگرام "ندیم ملک لائیو" میں گفتگو کرتے ہوئے چن نے کہا کہ اگر صدر مملکت آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف، پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر ایک میز پر بیٹھ کر مذاکرات کریں تو پاکستان کے تمام بڑے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

پی پی پی کے سینئر رہنما نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ "موجودہ نظام نہیں چل سکتا اور سیاست کو دانستہ طور پر گالی بنایا جا رہا ہے۔" ان کے مطابق، ملک میں سیاست اور سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے، جس سے جمہوری عمل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

پروگرام کے دوران، ندیم افضل چن نے علاقائی واقعات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور فلسطین، کوئٹہ اور خیبر پختونخوا میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ "بھارت شاید ہی ان واقعات کی مذمت کرے،" جبکہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی قابل مذمت قرار دیا۔

معاشی بحران کے حوالے سے، پی پی پی کے رہنما نے مہنگائی اور عوام پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ "غریب اور مڈل کلاس کے لیے سونا خریدنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے کیونکہ مڈل کلاس کو سونا خریدنے کے لیے پراپرٹی بیچنی پڑتی ہے۔" یہ بیان ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معیشت کی خراب صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

ندیم افضل چن نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے حوالے سے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور پی ٹی آئی کے بانی کے ساتھ ہونے والے سلوک پر افسوس ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ "پتہ نہیں اگلا کون ہوگا،" جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر پی پی پی کے رہنما نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن سے واپسی اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی کو پیرول پر رہا کرنے کی بھی بات کی۔ انہوں نے معاشرتی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "معاشرہ تبدیل ہو چکا ہے اور یہ تبدیلی کسی ایک جماعت کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ہے۔"

ندیم افضل چن کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک سیاسی و معاشی بحران سے دوچار ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ ان کی تجویز کہ اگر تمام بڑے سیاسی قائدین اور فوجی قیادت ایک میز پر بیٹھیں تو مسائل حل ہو سکتے ہیں، سیاسی مصالحت کی طرف ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتی ہے۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry