جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

18ویں ترمیم کے باوجود کاشتکار کو اسلام آباد جانا پڑتا ہے,کے پی اور پنجاب میں حالات ٹھیک نہیں۔سندھ میں وفاق حالات خراب کر رھا ہے،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ایک سال بعد بھی نہیں بلایا جا رہا, اتحاد ایسے نہیں چلتے : گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی

18ویں ترمیم کے باوجود کاشتکار کو اسلام آباد جانا پڑتا ہے,کے پی اور پنجاب میں حالات ٹھیک نہیں۔سندھ میں وفاق حالات خراب کر رھا ہے،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ایک سال بعد بھی نہیں بلایا جا رہا, اتحاد ایسے نہیں چلتے : گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی

Editor

ایک سال قبل

Voting Line
 
 
 
 
 
 
 
18ویں ترمیم کے باوجود کاشتکار کو اسلام آباد جانا پڑتا ہے,کے پی اور پنجاب میں حالات ٹھیک نہیں۔سندھ میں وفاق حالات خراب کر رھا ہے،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ایک سال بعد بھی نہیں بلایا جا رہا, اتحاد ایسے نہیں چلتے : گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی
 

لاھور(۔ )گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے باوجود کاشتکار کو اسلام آباد جانا پڑتا ہے,کے پی اور پنجاب میں حالات ٹھیک نہیں۔سندھ میں وفاق حالات خراب کر رھا ہے،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ایک سال بعد بھی نہیں بلایا جا رہا, اتحاد ایسے نہیں چلتے کہ آپ ہمارے ورکروں کے گھروں پر چھاپے بھی ماریں،پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔کہیں یہ پھٹ نہ جائے۔وہ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی کے ڈیرے رجوعہ سادات میں پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔کنونشن سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن،حسن مرتضی،عنایت علی شاہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پرمرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن،نوید چودھری،صدر پیپلز پارٹی فیصل آباد ڈویژن عنایت علیشاہ،رائے شاہ جہاں کھرل،چودھری اختر علی چھوکر،ارشد جٹ،احسن رضوی،مظہر کسہلوں،تنویر موھل،چودھری اعجاز،عائشہ نواز چودھری،سکینہ چودھری،میاں اشفاق،فیاض بھٹی،سید کلیم علی امیر،سید علی رضا زیدی،راو بابر جمیل،حسین ترمذی،سمیت پارٹی رہنماوں،کارکنوں اور عمائدین شہر بھی موجود تھے۔گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہم حکومت کے شوقین ہوتے تو ہمارے دس وزیر ہوتے۔ بلاول بھٹو وزیر اعظم بننا چاہتے تو اب بھی بن سکتے تھے مگر ہم نے جمہوریت کو آگے رکھا،پیپلز پارٹی آج بھی پنجاب میں موجود ہے،صرف محنت کرنیکی ضرورت ہے۔انہوں نے زور دیکر کہا کہ کے پی اور پنجاب محنت کرے تو کوئی بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بننے سے نہیں روک سکتا۔انہوں نے کہا کہ 2013۔میں پر امن صوبہ پی ٹی آئی کو دیا آج اسکے وزراء آپس میں لڑ رھے ہیں،پی ٹی آئی کی کرپشن کا اگر کسی کو نہیں پتہ تو وہ صرف نیب اور پولیس کو نہیں،تمام صوبوں کو ساتھ لیکر چلنے تک ملک کے حالات ٹھیک نہیں ہونگے۔انکا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے کے حالات بھی کوئی اتنے اچھے نہیں۔آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ دہشت گردی اور بھتہ خوری سے محفوظ ہیں ,پیپلز پارٹی جب بھی اقتدار میں آتی ہے تو روزگار دیتی اور ملازمتوں پر بحال کرتی یے۔،ہمیں قبل ازیں بارود سے بھرا پاکستان ملا تھا جسے پیپلز پارٹی نے سنبھالا دیا۔ہم نے 2008سے2013تک معیشت کی بہتری اور عوام کی خوشحالی کا سفر شروع کیا۔پاکستان کو صرف کسان اور ہاری ہی اجالوں کی طرف لیجا سکتا ہے۔انہوں نے زور دیکر کہا کہ اسوقت سب سے سستی بجلی سوا روپے فی یونٹ پیدا کر کے مہنگی لیتے ہیں۔ہم سب سے زیادہ گیس اور بجلی پیدا کرتے ہیں تو سب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ بھی وہاں ہوتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا کہ تاجر حکمران بنیں گے تو ملک تباہ ہو جاتا ہے،اسمبلیوں کے 87فیصد لوگ زراعت سے وابستہ ہیں،بول نہیں سکتے تو سوشل میڈیا پر ہی بول لیں۔پیپلز پارٹی والے پھر بھی بول لیتے ہیں۔پی ٹی آئی اور ن لیگ والے گونگے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج ریلوے سمیت ہر محکمے سے بندے نکالے جا رھے ہیں۔انہوں نے ن لیگ کا نام۔لیے بغیر کہا کہ آپ ہمارے ایسے ہی اتحادی ہیں جیسے سوکن ہوتی ہے،تم جو کچھ کر رھے ہو اسکا حساب دینا ہڑیگا۔انہوں نے زور دیکر کہا کہ سٹیٹس کو جلد ختم ہونے والا ہے،پسماندہ طبقے کی واحد جماعت پیپلز پارٹی ہے،انہوں نے کہا کہ ٹیکس ضرور لیں مگر دیہات کو بھی اچھا سکول اور پارک دیں۔جسکا جتنا حصہ بقدر جثہ ہو حکومت ضرور دے۔پیپلز پارٹی اپنے دور میں گندم ایکسپورٹ کرتی ہے تو حکمران اربوں کی امپورٹ کیوں کرتے ہیں۔فیصل آباد اور سرگودھا ڈویژن ہی ملک بھر کی گندم فراہم کر سکتے ہیں۔ندیم افضل چن نے مذید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک کو آئین اور کسان کو مالکانہ حقوق دئیے،کاشتکار کو پورے سال کی محنت کے بعد جب اسکی محنت نہ ملے تو اسکی آہ لگتی ہے۔کسان کواپنی زمین اور پانی سے اتنا ہی پیار ہے جتنا آپ کو ہے۔پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری اور میزبان حسن مرتضی نے کہا کہ حکمرانوں نے پنجاب اور اس ملک کو قبرستان بنا دیا ہے،کمی سے گزارہ ہو سکتا ہے،کمینے سے گزارہ نہیں ہو سکتا۔ہماری دیہی روایت ہے مہمان کی عزت کی جاتی ہے مگریہ واحد حکومت ہے کہ جس نےکم۔ظرفی سے ہمارے مہمان کے استقبالیہ بینر اتار دئیے ،عوام کو اس طرح کار نر کیا گیا ہے کہ ہم اپنی خوشی نہیں منا سکتے۔انہوں نے کہا کہ کسی ٹیکس دینے والے کو اپنی خوشی تک منانے کی اجازت نہیں،اس زمین کو غریب کیلیے اتنا تنگ کر دیتے ہو کہ تجاوزات کے نام پر اسکا روز گار ختم کر دیتے ہو۔انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکن کی سوچ کو حکمران خوبصورتی میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ن لیگ کا یہاں کوئی بھی لیڈر آئیگا ہر جگہ دما دم مست قلندر کرینگے ،کسی کو بھول ہے کہ پیپلز پارٹی کا یہاں کوئی نمائندہ نہیں۔حسن مرتضی نے مذید کہا کہ ایک حادثہ 1947میں دوسرا فارم ,47کی صورت میں ہوا ہے۔ایسا غیر فطری اتحاد بنایا کہ چنیوٹ میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کو اکھٹا کیا گیا۔ہم اپنا حق نمائندگی ادا کرینگے اور کرتے رہینگے۔انہوں نے کہا کہ مایوسی کے دن گئے۔ہمارے کارکن آخری فتح تک بلاول بھٹو کیساتھ ہیں۔سید عنایت علیشاہ،رائے شاہجہان کھرل،سید کلیم علی امیر،سکینہ چودھری،مبشر موہل،امجد جپہ،ملک قیصر،نے بھی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہن لیگ سے اتحاد کی کڑوی گولی ملک کی خاطر کھائی ہے۔
Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry