جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

نہروں کے متنازع منصوبے پر سندھ بھر کی عدالتوں میں وکلاء کی ہڑتال

وکلاء کا موقف ہے کہ پنجاب میں زیرِ تعمیر نہریں سندھ کے حصے کا پانی کم کر دیں گی، جس سے زرعی پیداوار اور عوامی مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔

Editor

ایک سال قبل

Voting Line

 


کراچی (اسٹاف رپورٹر)
متنازع نہری منصوبوں کے خلاف سندھ بار کونسل کی کال پر صوبے بھر کی عدالتوں میں ہنگامی ہڑتال کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔ وکلاء نے سندھ ہائی کورٹ کی مرکزی عمارت کے تمام داخلی دروازے بند کر دیے اور سائلین و سرکاری عملے کو حلقہ عدلیہ میں داخلے سے روک دیا۔ اسی طرح سٹی کورٹ کے مرکزی دروازے بھی تالے لگا کر سیل کر دیے گئے۔

دریں اثنا سکھر کے ببرلو بائی پاس پر وکلاء کا دھرنا ساتویں روز میں داخل ہو گیا، جہاں بار کونسل کے رہنماؤں نے متنازع نہروں کے منصوبے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ دہرایا۔ خیرپور میں بھی قومی شاہراہ پر وکلاء احتجاج کے دوران چھٹے روز میں داخل ہو گئے اور ٹریفک معطل کر دی۔

وکلاء کا موقف ہے کہ پنجاب میں زیرِ تعمیر نہریں سندھ کے حصے کا پانی کم کر دیں گی، جس سے زرعی پیداوار اور عوامی مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔ دوسری جانب وفاقی اور پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ نہروں کے معاملے کو سیاست زدہ کیا جا رہا ہے اور پانی کے ورثے کے تحفظ کے لیے موجودہ قوانین ازالہِ تنازع کے لیے کافی ہیں، کیونکہ “آرسا ایکٹ” کے تحت کوئی بھی صوبہ دوسرے صوبے کے ذخائرِ آب پر قبضہ نہیں کر سکتا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر متنازع نہریں واپس نہ لیں گئیں تو سندھ اپنا مؤقف الگ کرنے سمیت تمام قانونی و سیاسی آپشن استعمال کریگی۔ سندھ بار کونسل کا اعلان ہے کہ اس وقت تک عدالتیں کام نہیں کریں گی جب تک یہ منصوبہ منسوخ نہ کیا جائے۔

اس تنازعے نے صوبے میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے اور عوامی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ زرعی معیشت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری سنجیدہ حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry