مزدور دوست اور دشمن لیبر پالیسیاں اور پیپلز پارٹی کا فرض۔
بلاول بھٹو زرداری سندھ اور بلوچستان میں مزدوروں کی کم ازکم اجرت کے احکامات پہ ہر صورت عملدرآمد کروائیں ۔
جب ابراہم لنکن (Abraham Lincoln) نے غلامی (انسانی خریدو فروخت) کے خاتمے کی مہم شروع کی خاص طور پر جب انہوں نے 1863 میں اعلانِ آزادی (Emancipation Proclamation) جاری کیا تو امریکہ کی جنوبی ریاستوں (Southern States) جن میں جارجیا، مسیسیپی، الاباما، جنوبی کیرولائنا وغیرہ شامل تھیں غلاموں کی مزدوری پر اپنی صنعتوں کو چلاتی تھیں۔ خاص طور پر کپاس اور تمباکو کی پیداوار میں غلاموں پر انحصار تھا جن کی انتہائی سستی مزدوری اور منافع بخش کاروبار تھا۔ اس لیے غلامی کے خاتمے سے ان کے اقتصادی مفادات کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ اور ان ریاستوں کے سرمایہ داروں، زمینداروں اور کاروباری طبقے نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
اسی ردعمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنوبی ریاستوں نے امریکہ سے علیحدگی (secession) کا اعلان کر دیا ۔ جس کے نتیجے میں امریکی خانہ جنگی (1861-1865) (American Civil War) چھڑ گئی ۔
انہوں نے اپنی علیحدہ حکومت "کنفیڈریٹ ریاستیں"
(Confederate States of America)
قائم کر لی ۔
لنکن نے جنوبی ریاستوں کی علیحدگی کو غیر قانونی قرار دیا ۔ ان ریاستوں کو بزور طاقت واپس وفاقی آئین کے ماتحت لانے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے لئے وسیع فوجی بھرتی اور وسائل کا استعمال کرنا پڑا ۔
بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) کے لئے وفاقی
یونین نے "Anaconda Plan" کے تحت کنفیڈریٹ ریاستوں کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی تاکہ ان کی تجارت بند ہو جائے اور انہیں بیرونی امداد نہ مل سکے۔
بین الاقوامی سطح پر سفارتی اقدامات کے طور پہ امریکہ نے برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک کو قائل کیا کہ وہ کنفیڈریٹ حکومت کو تسلیم نہ کریں۔ خاص طور پر غلامی کے خلاف مؤقف نے یورپی حمایت کو کمزور کر دیا۔ اور ایک مکمل فوجی حکمت عملی کو اختیار کی جس کے نتیجے میں 1865 میں کنفیڈریٹ افواج نے ہتھیار ڈال دیے اور امریکہ ایک بار پھر متحد ہو گیا۔ اور امریکی آئین میں تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے انسانی غلامی قانونی طور پر ختم کر دی گئی ۔
انسانی سماجی معاشرتی ارتقاء کے باعث مزدوروں کو کچھ حقوق مل گئے ۔ لیکن ان سے سولہ سولہ گھنٹے کام لیا جاتا تھا ۔ پھر شکاگو کے مزدوروں نے ایک تحریک مئی 1886 میں چلائی جس میں کئی مزدوروں کی جانیں گئیں اور سولہ گھنٹے سے آٹھ گھنٹے مزدوری کے اوقات کا مطالبہ تسلیم کرنا پڑا ۔
برصغیر میں مزدوروں کے لئے 1934 میں قانون سازی کی گئی جس کو لیبر ایکٹ 1934 کہا جاتا ہے ۔ اور یہی لیبر ایکٹ پاکستان بننے کے بعد 1972 تک نافذ العمل رہا ۔
ذوالفقار علی بھٹو نے 10.فروری 1972 کو لیبر پالیسی پاکستان میں نافذ کی ۔ یہ پالیسی مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے ایک انقلابی قدم تھا ۔
اس پالیسی کے تحت پہلی بار مزدوروں کی صحت، حفاظت، فلاح و بہبود کو واضح طور پر قانونی دائرہ کار میں شامل کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں کئی نئے قوانین، ضوابط اور ادارے قائم کیے گئے۔
1972 کی لیبر پالیسی میں مزدوروں کی صحت و حفاظت سے متعلق اہم اقدامات میں
سیفٹی اور ہیلتھ قوانین کو بہتر بنایا گیا تھا ۔ فیکٹریوں، کانوں اور صنعتی اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے حفاظتی اقدامات (Safety measures) کو لازمی قرار دیا گیا۔ مالکان پر لازم کیا گیا کہ وہ ذاتی حفاظتی آلات (PPEs) فراہم کریں جیسے دستانے، ماسک، جوتے، وغیرہ۔
ایمپلائز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس 1965 میں ترامیم کر کے مزید فعال کیا گیا ۔ جس کے تحت مزدوروں کو طبی سہولیات ،حادثاتی تحفظ
بیماری، معذوری، اور زچگی کی چھٹیاں دی جانے لگیں۔
ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوٹ کا قیام 1976میں کیا ۔ یہ ادارہ 1972 پالیسی کے تسلسل میں EOBI قانون 1976 بنایا گیا تاکہ مزدوروں کو ریٹائرمنٹ، معذوری یا وفات کی صورت میں پنشن فراہم کی جا سکے۔ تمام صنعتی یونٹس کو پابند کیا گیا کہ وہ فرسٹ ایڈ رومز، ڈسپنسری، نرس یا میڈیکل آفیسر رکھیں۔
لیبر انسپیکشن نظام مضبوط بنایا گیا ۔ مزدوروں کی حفاظت، صحت، اوقات کار اور دیگر سہولیات کی نگرانی کے لیے لیبر انسپکٹرز کا نظام فعال کیا گیا۔
مزدور یونینز کو قانونی تحفظ دیا گیا ۔ یونین سازی کا حق تسلیم کیا گیا، تاکہ مزدور اپنی صحت و حفاظت سے متعلق مطالبات خود منظم طریقے سے اپنے ادارے کے مالکان کے سامنے اٹھا سکیں۔
خواتین اور بچوں کے لیے مخصوص تحفظ جس میں
کم عمر اور حاملہ خواتین مزدوروں کے لیے کام کی مخصوص شرائط اور صحت کے تحفظ کے اقدامات شامل کیے گئے۔
روزگار کے حالات کو انسانی تقاضوں کے مطابق بنانے پر زور دیتے ہوئے فیکٹریوں کے مالکان کو مجبور کیا گیا کہ وہ مزدوروں کے لیے صاف پانی، بیت الخلاء، کینٹین، بیٹھنے کی جگہ اور روشنی و ہوا کا مناسب بندوبست کریں۔
مزدوروں کی صحت و حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اور بچاؤ کے طریقے اپنانا لازمی قرار دیا گیا۔ خاص طور پر کاٹن جننگ، اسپننگ، ٹیلرنگ یا زہریلے مادوں کی پیکنگ جیسی فیکٹریوں کے مزدوروں کے لئے ذاتی حفاظتی سامان (PPE) کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ۔ جس میں گرد، دھول، دھاگے، کیمیکل یا زہریلی گیسوں سے بچاؤ کے لیے خاص ماسک، دستانے پہننا، سیفٹی چشمے وغیرہ ، زیادہ شور والی جگہوں پر کام کرتے وقت کانوں کو بچانے کے لیے کانوں کے حفاظتی آلات ، جلد پر زہریلے مادوں یا گرد کے اثرات سے بچاؤ کے لئے حفاظتی لباس یا اپرون وغیرہ ، فیکٹری میں دھول، گیس یا کیمیکل کے ذرات کو کم کرنے کے لئے ہوا کی نکاسی کا مؤثر نظام (Ventilation) خواہ
قدرتی یا مصنوعی وینٹیلیشن سے کیا جانا لازمی قرار دیا گیا۔
فیکٹریوں کی صفائی اور سینیٹیشن مشینوں اور کام کی جگہ کو روزانہ صاف رکھنا، مزدوروں کے لیے نہانے اور کپڑے بدلنے کی سہولت بھی مہیا کرنا بھی مالکان کا فرض تھا ۔
فیکٹری مالکان کو پابند کیا گیا کہ وہ مزدوروں کے صحت کے باقاعدہ معائنے کا بندوبست کریں، تاکہ بیماریوں کی بروقت شناخت ہو سکے۔
مزدوروں کو بیماریوں، خطرات، اور بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کرنا۔مشینوں کا درست طریقے سے استعمال کرنے کی تربیت دینا بھی مالکان پہ زمہ داری عائد کی گئی ۔
مزدوروں کی مزدوری کے معیاری اوقات کار اور کم ازکم اجرت اور اوور ٹائم کی دگنی تنخواہ مقرر کی گئی ۔
اس پالیسی کے تحت مزدوروں کے حقوق کو تحفظ دینے کے لیے کئی ادارے اور اقدامات متعارف کروائے گئے۔ جن میں لیبر انسپکٹرز (Labour Inspectors) کا کردار بھی بہت اہم تھا۔
لیبر انسپکٹر کی ذمہ داریاں (Labor Inspector's Duties) لیبر پالیسی 1972 کے تحت قوانین پر عمل درآمد کی نگرانی کرنا انسپکٹر کی بنیادی ذمہ داری تھی ۔ وہ فیکٹریز، ورکشاپس، اور دیگر صنعتی اداروں میں مزدوروں سے متعلق قوانین جیسے کہ Factories Act, Minimum Wages Ordinance, Shops and Establishments Ordinance وغیرہ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا تھا ۔
وہ مختلف صنعتی اداروں کا دورہ کرتا اور چیک کرتا کہ فیکٹری میں کام کے حالات، صفائی، حفاظتی اقدامات، اور اوقاتِ کار قانون کے مطابق ہیں یا نہیں۔ مزدوروں کو کم از کم اجرت دی جا رہی ہے یا نہیں، اور ان سے قانونی حد سے زیادہ گھنٹے کام تو نہیں لیا جا رہا ۔
ادارے کے ریکارڈز (جیسے کہ حاضری رجسٹر، اجرتوں کا ریکارڈ، کام کے اوقات، اوور ٹائم وغیرہ) کا جائزہ لینا تاکہ کوئی خلاف ورزی تو نہیں ہو رہی
اگر کسی مزدور نے استحصال، اجرت کی عدم ادائیگی، یا دیگر مسائل پر شکایت کرتا تو لیبر انسپکٹر اس کی تحقیقات کرتے تھے۔ اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں انسپکٹر نوٹس جاری کرتا، جرمانے یا کیس عدالت میں بھیج سکتا تھا۔
انسپکٹرز اکثر مزدوروں اور آجر دونوں کو لیبر قوانین سے آگاہی دیتے تھے تاکہ قوانین کی بہتر سمجھ ہو۔
انہیں بغیر اطلاع کے بھی معائنہ کرنے کا قانونی حق بھی رکھتا تھا تاکہ حقائق معلوم ہو سکیں۔
اس لیبر پالیسی کے تحت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے کئی اہم ادارے اور اقدامات متعارف کروائے گئے۔ ان میں سے کچھ نمایاں ادارے اور اقدامات درج ذیل ہیں:
نیشنل ٹریننگ سنٹرز (National Training Centers):
ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کے لیے مختلف صنعتی شعبوں میں تربیت فراہم کرنے والے ادارے قائم کیے گئے۔
1972 سے 1977 تک نیشنل ٹریننگ سینٹرز (National Training Centers) پاکستان میں اس وقت کی حکومت کی جانب سے روزگار کے مواقع بڑھانے اور ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کے لیے تقریباً 300 سے زائد نیشنل ٹریننگ سینٹرز قائم کیے گئے۔ ان مراکز کا بنیادی مقصد بے روزگار نوجوانوں کو مختلف فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا تھا تاکہ وہ روزگار حاصل کر سکیں یا خود کا روزگار شروع کر سکیں۔ ان سینٹرز میں الیکٹریشن ،موٹر مکینک ، آٹو مکینک ، ویلڈنگ ، کارپنٹری (بڑھئی کا کام) ، درزی / ٹیلرنگ،
پلمبنگ ، مشین آپریٹر ، مکینیکل ٹریننگ ، سول ورک (مستری کا کام) اور خواتین کے لیے بیوٹیشن کورسز ، آرٹ اور دوسرے کورسز کی ٹرینگ دی جاتی ۔
یہ تمام اقدامات اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے "روٹی، کپڑا اور مکان" پروگرام کا حصہ تھا، جس کا مقصد عوام کو خود کفیل بنانا تھا۔
ورکرز ویلفیئر فنڈ (Workers Welfare Fund - WWF):
یہ فنڈ مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو تعلیمی، طبی، اور رہائشی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔
ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI):
ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور دیگر فوائد دینے کے لیے EOBI کا قیام عمل میں آیا۔
سوشل سیکیورٹی اسکیمز کی توسیع کر کے ملازمین کو بیماری، حادثات، اور معذوری کی صورت میں مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے سوشل سیکیورٹی نیٹ ورک کو مضبوط کیا گیا۔
لیبر کورٹس اور انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن مزدوروں اور مالکان کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لیے خصوصی لیبر کورٹس اور کمیشنز قائم کیے گئے۔
5۔ جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے عالمی سازش کے تحت آپریشن فیئر پلے نامی غیر آئینی آپریشن کرتے ہوئے پاکستان کے پہلے عوامی وزیراعظم کو معزول کر دیا ۔ اس کے بعد مزدور تحریکوں کے لیے ایک سخت اور جبر آمیز دور کا آغاز ہوا ۔ اس نے اپنے دور حکومت (1977-1988) میں "اسلامائزیشن" کے نعرے کے تحت ریاستی پالیسیوں کو مذہب کے ساتھ جوڑ کر اپنے امرانہ عزائم کو نافذ کیا جس میں مزدور تحریکیں اور ٹریڈ یونینز بھی نشانے پر رکھا ۔ ضیاء نے مزدوروں کی اجتماعی طاقت کو "فساد" قرار دینے کے لیے اسلامی اصطلاحات اور بیانیے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ قرآن کی آیات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر یہ دلیل دی جاتی تھی کہ "فساد فی الارض" (زمین میں فساد) پھیلانا حرام ہے، اور مزدور تحریکیں اسی زمرے میں آتی ہیں ۔ ان تحریکوں کو "بغاوت" قرار دیا ۔
مزدوروں کے جلسے جلوس اور ہڑتالوں کو اسلام کی "اطاعتِ اولی الامر" (حکمرانوں کی اطاعت) کے اصول کے خلاف قرار دیا گیا۔ جس میں مزدوروں پر ریاستی تشدد کے کئی مسلسل واقعات پیش آئے۔
کالونی ٹیکسٹائل ملز ملتان کے نہتے مزدوروں نے اپنے واجب الادا بونس کی ادائیگی کے لیے 02۔ جنوری 1978 کو پرامن ہڑتال کی۔ اس دوران ریاستی پیرا ملٹری فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کر کے 22 (سرکاری اعداد و شمار جبکہ غیر سرکاری اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 133 سے 200 تک ہے ) مزدوروں کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کردیا یہ قتل عام جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں مزدور تحریکوں پر ہونے والے بدترین ریاستی جبر کی ایک اندوہناک علامتی مثال ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف مزدوروں کے حقوق کی پامالی کا ثبوت ہے بلکہ یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح ریاست نے سرمایہ دار طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرامن مزدور تحریکوں کو خون میں نہلا دیا۔ مزدور رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، ان پر مارشل لا کورٹس میں مقدمے چلائے گئے۔
جنرل محمد ضیاء الحق کے فوجی دور حکومت مزدوروں اور ٹریڈ یونینز پر سخت پابندیاں عائد کر دی گیئں۔
خوف و ہراس کے ماحول میں ٹریڈ یونینز کی سرگرمیاں مزید محدود ہو گئیں۔
پی آئی اے کے ملازمین پر جبر 1980 کی دہائی میں یونینز کو غیر فعال کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہڑتال کرنے والے ملازمین کو بر طرف کیا گیا، کئی کو قید اور ٹارچر کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان اسٹیل ملز کے مزدوروں پر 1981 میں کریک ڈاؤن کیا گیا اور کئی مزدوروں کو گرفتار کیا گیا۔
حیدرآباد میں 1983 میں مزدور تحریک اور سندھ کے دیگر علاقوں میں کسانوں اور مزدوروں کی تحریکوں پر سخت ریاستی جبر و تشدد کی کارروائی کی گئی۔ کئی مزدور رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔
ضیاء دور میں ٹریڈ یونینز کی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ یونین رہنماؤں کو زیرِ عتاب لایا گیا، بعض کو جلاوطنی یا طویل قید کی سزائیں دی گئیں۔
مزدور رہنماؤں کو سویلین عدالتوں کے بجائے مارشل لا کورٹس میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں منصفانہ سماعت کا موقع نہیں ملتا تھا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو 1988 میں پہلی دفع وزیراعظم بنیں ان کی لیبر پالیسی پاکستان کی مزدور دوستی اور فلاحی ریاست کے وژن کا اہم جز تھی۔ انہوں نے اپنی حکومت خصوصاً 1988–1990 اور 1993–1996 کے ادوار کے دوران لیبر کے حقوق، فلاح و بہبود، اور سوشل سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے۔ جن میں کم از کم اجرت کا تعین ازسر نو بہتر کیا ، کام کے محفوظ حالات ، اوقات کار کی پابندی ، اٹھارہ سال سے کم عمر
بچوں سے مشقت کی روک تھام کے لئے پابندی ،ٹریڈ یونینز کو ازسر نو فروغ اور آزادی کو بحال کیا گیا ۔ مزدوروں کو اجتماعی سودے بازی (Collective Bargaining) کا حق دیا ، سوشل سیکیورٹی میں بہتری کی گئی ، اولڈ ایج بینیفٹ اسکیم (EOBI) میں توسیع کی گئی ، ورکرز ویلفیئر فنڈ کا فعال استعمال ہوا ،لیبر کالونیز اور ہاؤسنگ اسکیمز کا آغاز ہوا ،
خواتین کے لیے ملازمت کے مواقع بڑھانے پر زور دیا گیا
مرد اور عورت کی تنخواہوں میں امتیاز کے خاتمے اور کی کوشش کی گئی ۔
اگرچہ بے نظیر بھٹو کی پالیسی کی سمت مزدور دوست تھی، لیکن عملدرآمد کے حوالے سے کچھ چیلنجز درپیش رہے جس میں بیوروکریسی اور صنعتی اداروں کی مزاحمت صنعتی اداروں نے بعض اوقات لیبر قوانین کی مکمل پاسداری نہیں کی ۔ اس میں سیاسی عدم استحکام دونوں حکومتیں مکمل مدت پوری نہ کر سکیں، جس سے پالیسیوں کا تسلسل متاثر ہوا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی لیبر پالیسی پر عدالتی مداخلت اور فوجی دباؤ رہا جو یہ واضح کرتی ہیں کہ ان کی مزدور دوست پالیسیوں پر بعض اوقات ریاستی اداروں کی طرف سے براہِ راست یا بالواسطہ رکاوٹیں پیدا کی گئیں ۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے ٹریڈ یونینز کی آزادی کی بحالی پر زور دیا، لیکن کچھ صنعتی اداروں نے ٹریڈ یونینز کی رجسٹریشن اور سرگرمیوں کے خلاف عدالتوں سے حکم امتناع (stay orders) حاصل کیے، جس سے یونین سازی کا عمل سست پڑ گیا۔
بعض ججوں نے مزدور پالیسیوں کو "سستی مقبولیت" (populism) یا "سیاسی مفاد" قرار دیتے ہوئے ان پر سوال اٹھایا، جس سے ان کی قانونی حیثیت متنازع ہوئی۔ کچھ معاملات میں نجکاری یا اس کے خلاف حکومتی اقدامات کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا، جس سے بے نظیر حکومت کی لیبر اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ آئی۔
فوجی دباؤ (بالخصوص جنرل ضیاء دور کی باقیات) نے
محترمہ بے نظیر کی حکومت کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے واضح اور خفیہ دباؤ کا سامنا تھا کہ وہ مزدور تحریکوں کو زیادہ آزادی نہ دے، کیونکہ یہ تحریکیں سیاسی سرگرمیوں میں بھی فعال ہوتی تھیں۔ ان حلقوں کی جانب سے یہ پیغام بھی دیا جاتا رہا کہ مزدوروں کو طاقت دینا نجی شعبے کی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، اور یہ سیاسی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ اور غیر ملکی سرمایہ کاری رک جائے گی ۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی لیبر پالیسیوں پر عملدرآمد صرف اندرونی انتظامی چیلنجز کی وجہ سے نہیں، بلکہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے غیر اعلانیہ مگر مؤثر دباؤ کی وجہ سے بھی محدود رہا۔ اگرچہ ان کا وژن مزدور دوست تھا، مگر زمینی حقائق میں طاقت کے دوسرے مراکز کی مداخلت نے اس وژن کو مکمل ہونے نہ دیا۔
اور حکومت کی رٹ کمزور رہی۔
نواز شریف، جنہوں نے پاکستان میں تین بار وزارتِ عظمیٰ سنبھالی (1990–1993، 1997–1999، اور 2013–2017)، کا معاشی وژن بنیادی طور پر نجکاری، آزاد منڈی، اور سرمایہ دارانہ ترقی پر مبنی تھا۔ اس کے نتیجے میں ان کے ادوارِ حکومت میں کئی ایسی پالیسیاں نافذ کی گئیں جنہیں مزدور دشمن اور جنرل ضیاء کی پالیسیوں کا تسلسل سمجھا گیا۔ ان پالیسی میں
وسیع پیمانے پر نجکاری (Privatization Drive)
انہوں نے درجنوں سرکاری ادارے نجی شعبے کو بیچے ۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (PTCL) یہ ادارہ 2005 میں فروخت کیا گیا تب سالانہ خالص منافع 26.9 ارب سالانہ تھا ۔ اور اس وقت 75000 ملازمین برسر روزگار تھے ۔ اب پی ٹی سی ایل کا خالص منافع 8. ارب روپیے جبکہ کل ملازمین کی تعداد 25000 کے قریب ہے ۔ اسی طرح بینکنگ سیکٹر سے مسلم کمرشل بنک اور یو بی ایل کو بیچا گیا ۔
نجکاری کے نتیجے میں ہزاروں مزدور برطرف کیے گئے یا جبری ریٹائرمنٹ پر مجبور کئے گئے ۔
ٹریڈ یونینز کی سرگرمیوں پر پابندیاں لگا کر کئی سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں یونین سازی سے روکا گیا۔
یونین رہنماؤں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
مستقل ملازمتوں کی جگہ کنٹریکٹ لیبر اور نجی ٹھیکیداری کا نظام رائج کیا گیا، جس میں مزدور کو نہ سوشل سیکیورٹی، نہ میڈیکل، اور نہ ہی ریٹائرمنٹ کی سہولت دی گئی۔
لیبر قوانین کا کمزور نفاذ
لیبر انسپکٹرز کا نظام کمزور کیا گیا تاکہ سرمایہ داروں کو کھلی چھوٹ ملے۔
کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی نگرانی نہ ہونے کے برابر رہی۔
اسٹیل ملز، ریلوے اور PIA کے مزدوروں کی جدوجہد کو دبایا
جب یہ ادارے خسارے میں گئے تو حکومت نے مزدوروں کے مطالبات کے بجائے انہیں بوجھ قرار دیا۔
پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال جو 2016 میں ہوئی پہ سخت کریک ڈاؤن کیا گیا، یہاں تک کہ مزدوروں پر فائرنگ کا واقعہ بھی ہوا۔
مزدور مخالف بیانیہ بنایا گیا
اور مزدور تحریکوں کو ملکی ترقی میں رکاوٹ اور "سیاسی ایجنڈے" کا حصہ قرار دیا گیا۔
آصف علی زرداری کے دورِ صدارت (2008–2013) میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی حکومت وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے لیبر پالیسی یکم مئی 2010 کو متعارف کروائی، جو مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع منصوبہ تھا۔ اور اسی روز وفاقی کابینہ نے منظور کی ۔
اس لیبر پالیسی کے تحت کم از کم اجرت 6,000 روپے سے بڑھا کر 7,000 روپے مقرر کی گئی ۔
سرکاری اداروں میں کنٹریکٹ پر ملازمت کرنے والے ملازمین کو مستقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ انہیں ملازمت کا تحفظ حاصل ہو ۔
اولڈ ایج بینیفٹ اسکیم کے تحت پنشن کی عمر کی حد 55 سال سے کم کر کے 50 سال کر دی گئی۔
ملازمین کی پنشن میں اضافہ کرکے 3,000 روپے ماہانہ پنشن کر دی گئی ۔
مختلف اداروں سے برطرف کیے گئے ملازمین کو دوبارہ "(بحالی) ایکٹ 2010" کے تحت ملازمت پر بحال کیا گیا ۔
جہاں سرکاری اسپتال موجود نہیں تھے، وہاں مزدوروں کو نجی اسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔
مزدوروں کے بچوں کو تکنیکی تعلیم کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے گئے ۔
پالیسی کے تحت پرانے اور متروک لیبر قوانین کو پانچ بنیادی ایکٹس میں ضم کیا گیا، جو صنعتی تعلقات، ملازمت، حفاظت، انسانی وسائل، اور فلاح و بہبود سے متعلق تھے ۔
خواتین، نوجوانوں، غیر رسمی شعبے کے کارکنوں، اور زرعی مزدوروں کے لیے بہتر کام کے حالات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ اس کے علاوہ، چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے خاتمے کے لیے بھی پالیسی میں اہداف مقرر کیے گئے ۔
2012 میں پاکستان میں غیر ہنر مند (unskilled) مزدوروں کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 8,000 روپے مقرر کی گئی تھی۔ یہ اضافہ یکم مئی 2012 کو اُس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے یومِ مزدور کے موقع پر اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل کم از کم تنخواہ 7,000 روپے تھی، جو 2010 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے مقرر کی گئی تھی۔
ملازمین کی اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (EOBI) پنشن 1,500 روپے سے بڑھا کر 2,000 روپے ماہانہ پھر 3000 روپیے ماہانہ کر دی گئی۔
مزدوروں کی وفات پر دی جانے والی گرانٹ 150,000 روپے سے بڑھا کر 500,000 روپے کر دی گئی۔
مزدوروں کے بچوں کی شادی کے لیے گرانٹ 70,000 روپے سے بڑھا کر 100,000 روپے کر دی گئی۔
کپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ملازمین کو مستقل تقرری کے خطوط دیے گئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے مزدوروں اور کم آمدنی والے افراد کے لیے مختلف لیبر ہاؤسنگ کالونیوں کے منصوبے شروع کیے۔ اگرچہ ان منصوبوں کی تکمیل بعد میں ہوئی، لیکن ان کی بنیاد زرداری کے دور میں رکھی گئی۔
نیو لیبر سٹی سکھر کے منصوبے کی بنیاد صدر آصف علی زرداری کے سابقہ دور میں رکھی گئی تھی ۔
2021 میں بلاول بھٹو زرداری نے اس منصوبے کے تحت 1,024 فلیٹس مزدوروں میں مفت تقسیم کیے۔ مزید 6,000 فلیٹس کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل تھا۔
پشاور میں 2010 میں مزدوروں کے لیے صدر آصف علی زرداری نے 2,000 فلیٹس پر مشتمل منصوبے کا آغاز کیا۔
یہ منصوبہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت تھا، لیکن 2013 کے بعد اس کی تکمیل میں تاخیر ہوئی۔ اور آج تک زیر تکمیل ہے ۔
ٹیکسلا میں ورکرز کمپلیکس کا منصوبہ آصف علی زرداری کے سابقہ دور میں شروع کیا اور 2022 میں 504 فلیٹس کی تکمیل ہوئی۔ اور 70 فلیٹس شہداء کے خاندانوں کے لیے مختص کیے گئے۔
کوئٹہ میں نواں کلی لیبر کالونی بلوچستان کا منصوبہ صدر آصف علی زرداری کے سابقہ دور میں مزدوروں کے لئے منصوبہ بندی کی گئی ۔ اور 2022 میں 408 فلیٹس کی تکمیل ہوئی۔
صدر آصف علی زرداری کے دور میں "شہید بینظیر بھٹو ہاؤسنگ سیل" کے تحت میرپور خاص اور نواب شاہ میں بھی کم لاگت ہاؤسنگ منصوبے شروع کیے گئے۔ تاہم، ان منصوبوں میں عدالتی اور انتظامی مسائل کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔
آصف علی زرداری کے دورِ صدارت میں PPP نے مزدوروں کے لیے مختلف ہاؤسنگ منصوبے شروع کیے، جن کی تکمیل بعد میں ہوئی۔ یہ منصوبے پارٹی کے منشور "روٹی، کپڑا اور مکان" کا ہی تسلسل تھا ۔
پاکستان میں موجودہ حالات میں مزدور طبقہ بالکل اسی طرح کے گھمبیر مسائل کا شکار ہے جو 1970 یا اس سے قبل تھے ۔ جو ان کے معیارِ زندگی کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔
اجرتیں مہنگائی کی رفتار کے مطابق نہیں بڑھ رہیں۔ اور
کم از کم تنخواہ پر اکثر اداروں میں عمل درآمد نہیں ہوتا۔
یومیہ مزدور یا دیہاڑی دار طبقہ روزگار کے عدم تسلسل کا شکار ہے۔
غیر رسمی شعبے کی اجارہ داری 70 فیصد سے زائد مزدور غیر رسمی شعبے (informal sector) میں کام کرتے ہیں، جہاں کوئی کنٹریکٹ نہیں ہوتا،
سوشل سیکیورٹی یا EOBI جیسی سہولتیں نہیں ملتیں ۔ اور کام کا کوئی تحفظ موجود نہیں ہوتا ۔
لیبر قوانین پر ناقص عمل درآمد
اگرچہ قوانین موجود ہیں، مگر
فیکٹریوں اور ورکشاپس میں اوور ٹائم، چھٹیوں اور دیگر حقوق کی خلاف ورزی عام ہے۔
لیبر انسپیکشن سسٹم کمزور ہے یا کرپٹ بالکی ہے ہی نہیں لیبر انسپکٹر فیکٹری میں نہیں گھس سکتا ۔ انسپکشن خاک کرنا ہے ۔
صنعتی حادثات اور حفاظتی اقدامات کی کمی اور مزدوروں کے لیے حفاظتی سازوسامان یا تربیت کا فقدان ہے۔ جس کی وجہ مزدور کئی جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کا علاج کروانے کی بجائے ملازمت سے برخاست کر دیا جاتا ہے ۔
فیکٹریوں اور تعمیراتی مقامات پر حادثات اکثر جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ جن پہ کوئی امداد ادا نہیں کی جاتی ۔
سوشل سیکیورٹی اور پنشن کا فقدان بیشتر مزدور سوشل سیکیورٹی، EOBI، یا صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں۔
ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ نہیں ہوتا۔
خواتین مزدوروں کے مسائل میں کم تنخواہ سر فہرست ، ہراسانی، زچگی کی چھٹی نہ دینا، اور صنفی امتیاز عام ہے۔
بہت سی خواتین بغیر کسی قانونی تحفظ کے کام کرتی ہیں۔
لیبر یونینز پر دباؤ اور پابندیاں ہیں۔ اور بہت سے ادارے مزدوروں کو یونین سازی کی اجازت نہیں دیتے۔
مزدور طبقہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن انہیں مناسب اجرت، تحفظ، اور سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ لیبر قوانین پر مؤثر عمل درآمد، سماجی تحفظ، اور منصفانہ اجرت کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ان نامساعد حالات میں پیپلز پارٹی پہ فرض ہے کہ اس کی تنظیمیں اور لیبر ونگ مزدوروں سے بالمشافہ ملاقاتیں کر کے ان کے مسائل اور ان کے اجر ادارے کی زیادتیوں اور ناانصافیوں کا پورا ایک ریکارڈ بنائے ۔
مزدور کمزوری اور ملازمت کے چھن جانے کے خوف سے احتجاج نہیں کر سکتے ۔ مگر پیپلز پارٹی ان کی جگہ احتجاج کرے ۔ اور مزدوروں کو ازسر نو پھر یقین دلائے کہ پیپلز پارٹی ہی ان کی دوست ہے ۔
بلاول بھٹو زرداری چیئرمین سندھ اور بلوچستان میں مزدوروں کی کم ازکم اجرت کے احکامات پہ ہر صورت عملدرآمد کروائیں ۔ جس کے لئے آجروں سے رابطہ کر کے ان کو اخلاقی طور پہ مجبور کیا جائے کہ کم از کم اجرت پر صورت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مزدوری کے اوقات کی پابندی کروائیں دیگر قانون کے مطابق اوور ٹائم ادا کریں ۔ خواتین کے ساتھ بلحاظ تنخواہ امتیاز کی روک تھام کی جائے ۔
اگر کوئی حکومت اپنے احکامات پہ عمل درآمد نہیں کروا سکتی تو یہ سستی شہرت حاصل کرنے کے علاؤہ کچھ نہیں ہے ۔
No comments yet.