پیپلز پارٹی ہمیشہ صحافیوں کے تحفظ اور آزادی اظہار کی علمبردار رہی ہے، بلاول بھٹو
پیپلز پارٹی ہمیشہ صحافیوں کے تحفظ اور آزادی اظہار کی علمبردار رہی ہے، بلاول بھٹو
پیپلز پارٹی ہمیشہ صحافیوں کے تحفظ اور آزادی اظہار کی علمبردار رہی ہے، بلاول بھٹو
کراچی / اسلام آباد / لاہور ( 2 مئی 2025) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے صحافیوں، ایڈیٹرز، فوٹوگرافرز اور میڈیا کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے تحفظ اور عوام کے سچ جاننے کے حق کے متعلق اپنے عہد کی پاسداری کے لیے ہمیشہ پرعزم رہی ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ عالمی یوم آزادی صحافت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحافت محض پیشہ نہیں بلکہ ایک عوامی خدمت، آمریت کے خلاف ڈھال اور جمہوری معاشروں کے لیے زندگی کی علامت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب کسی ناانصافی پر خاموشی اختیار کی جائے، جب سچ کو دبایا جائے، تو درحقیقت آزادی مجروح ہوتی ہے۔ چیئرمین بلاول نے اس امر کی نشاندہی کی کہ 1973ء کا متفقہ آئین جو آزادیٔ اظہار، آزادیٔ رائے اور آزادیٔ صحافت کی ضمانت دیتا ہے، قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے قوم کو دیا گیا تاریخی تحفہ ہے۔ انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوریت نواز بصیرت کو خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے آمریت کے بدترین ادوار میں بھی صحافت کی آزادی کا پرچم بلند رکھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ منفی اور زہریلی میڈیا ٹرائیل کا نشانہ بننے کے باوجود ، صدر آصف علی زرداری پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے فروغ پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی لیگیسی کا پیغام واضح ہے کہ ہم نے سینسرشپ، قید و بند اور شہادتیں برداشت کیں، مگر ہم اُن قوتوں کے آگے کبھی نہیں جھکے جو ہمیں خاموش کرانا چاہتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد صحافت ریاست کی دشمن نہیں بلکہ عوام کی آواز ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں، جن میں مؤثر قانونی تحفظ، میڈیا کارکنوں کے خلاف جرائم پر کارروائی، اور سنسرشپ یا مالیاتی دباؤ کا خاتمہ شامل ہو۔ انہوں نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی جانب سے "سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرز ایکٹ 2021" کو سندھ اسمبلی سے منظور کرونے اور اس قانون کے تحت صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کے اقدام کو سرہا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اُن صحافیوں کی جرأت کو سلام پیش کیا جو حقائق کے حصول کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں آزادیٔ صحافت کا دائرہ کار مزید وسیع ہو چکا ہے، جس میں آن لائن ہراسانی، جھوٹی معلومات اور الگورِتھم کے ذریعے ذہن سازی جیسے چیلنجز کا مقابلہ بھی شامل ہے۔ آج کی صحافت صرف پرنٹ اور ٹی وی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اب بلاگر، ولاگر اور سٹیزن جرنلسٹ بھی اس کا حصہ ہیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ آزادی اور ذمہ داری تمام پلیٹ فارمز پر مساوی طور پر لاگو ہوں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک ایسا معاشرہ جہاں آزاد صحافت نہ ہو، وہ بے روح جسم کی مانند ہوتا ہے۔ آئیے ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کریں جو اُس وقت بولتے ہیں جب باقی سب خاموش ہوتے ہیں۔ آئیے اُنہیں تحفظ دیں جو سچ لکھتے ہیں تاکہ ہم حقیقت جان سکیں۔ عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر، میں ماضی، حال اور مستقبل کے ہر اُس صحافی کے ساتھ کھڑا ہوں، جو سچ، انصاف اور احتساب کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔
No comments yet.