اداریہ: آزادی صحافت کے عالمی دن پر صدر زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پیغامات
صدر زرداری نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ پاکستان میں آزادی صحافت محض ایک نظریاتی تصور نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ایک آئینی حق ہے۔
آزادی صحافت کے عالمی دن 2025 کے موقع پر، صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پرمعنی پیغامات جاری کیے ہیں، جن میں انہوں نے پاکستان میں آزادی صحافت کی اہمیت اور اس کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا واضح اظہار کیا ہے۔ ان دونوں رہنماؤں کے پیغامات میں متعدد اہم نکات سامنے آئے ہیں جو میڈیا اور جمہوریت کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہیں۔
صدر زرداری نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ پاکستان میں آزادی صحافت محض ایک نظریاتی تصور نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ایک آئینی حق ہے۔ انہوں نے پاکستانی معاشرے میں صحافت کے لازمی کردار پر زور دیا، بتاتے ہوئے کہ میڈیا مکالمے کو فروغ دینے، سماجی و اقتصادی مسائل کو اجاگر کرنے، بدعنوانی کو بے نقاب کرنے اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
صدر کا یہ اعتراف قابل غور ہے کہ حکومت نے صحافیوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، لیکن ابھی بھی مزید کام کی ضرورت ہے۔ وہ ان صحافیوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے حقائق کی تلاش میں، خاص طور پر غزہ اور فلسطین جیسے جنگ زدہ علاقوں میں، اپنی جانیں قربان کیں۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں آزادی صحافت کو پیپلز پارٹی کی تاریخی روایت کے تناظر میں رکھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1973 کا آئین، جس میں آزادی اظہار اور آزاد صحافت کی ضمانت شامل ہے، ان کے دادا شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں وجود میں آیا تھا۔ انہوں نے اپنی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے کیے گئے کاموں کو بھی یاد کیا، جنہوں نے آمریت کے تاریک دور میں بھی صحافت کی آزادی کا دفاع کیا۔
خصوصی طور پر قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ چیئرمین بلاول نے یہ بھی واضح کیا کہ صدر زرداری، خود "پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ میڈیا ٹرائل کا نشانہ بننے کے باوجود، آزادی صحافت کے پرعزم حامی رہے ہیں۔ یہ ذاتی تجربہ صدر زرداری کے آزادی صحافت کے پرعزم دفاع کو مزید معنی خیز بناتا ہے۔
چیئرمین بلاول نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے خاص طور پر سندھ میں منظور کیے گئے "سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرز ایکٹ 2021" کا حوالہ دیا، جو صحافیوں کی حفاظت کے لیے ایک انقلابی قانونی اقدام ہے۔ یہ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے کیے گئے سب سے اہم قانونی اقدامات میں سے ایک ہے۔
انتہائی دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیئرمین بلاول نے آزادی صحافت کے تصور کو جدید ڈیجیٹل دور کے تناظر میں بھی رکھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج کی صحافت میں صرف پرنٹ اور ٹیلی ویژن ہی نہیں بلکہ "بلاگرز، ولاگرز اور سٹیزن جرنلسٹس" بھی شامل ہیں، اور آزادی صحافت کے اصولوں کو تمام پلیٹ فارمز پر لاگو کرنے کی ضرورت ہے، بشمول آن لائن ہراسانی اور الگورتھم کے ذریعے ذہن سازی سے تحفظ کے۔
دونوں رہنماؤں کے پیغامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ آزادی صحافت کو محض ایک آئینی حق ہی نہیں بلکہ حکومتی احتساب اور آگاہی پر مبنی شہری شرکت کے لیے ایک ضروری میکانزم سمجھتے ہیں۔ صدارت اور پارٹی قیادت کے مشترکہ پیغام یہ اشارہ دیتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزادی صحافت کے تحفظ کو اپنی سیاسی ترجیحات میں شامل رکھتی ہے۔
چیئرمین بلاول کا یہ کہنا کہ "ایک ایسا معاشرہ جہاں آزاد صحافت نہ ہو، وہ بے روح جسم کی مانند ہوتا ہے" ایک گہری سیاسی فلسفیانہ بصیرت کی عکاسی کرتا ہے۔ جمہوریت اس وقت بہتر کام کرتی ہے جب شہریوں کو قابل اعتماد معلومات تک رسائی حاصل ہو اور صحافی بغیر کسی خوف کے سچائی کی تلاش کر سکیں۔
پاکستان جیسے جیسے پیچیدہ قومی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے، آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے یہ تجدید شدہ عزم ایک امید افزا علامت ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت میڈیا کے آزادانہ اور ذمہ دارانہ کردار کی اہمیت کو سمجھتی ہے۔
No comments yet.