گورنر فیصل کریم کنڈی کا پی ٹی آئی حکومت پر 40 ارب کے منظم اسکینڈل کا شدید الزام، پی اے سی نے فوری تحقیقات کا اعلان کر دیا"
گورنر فیصل کریم کنڈی کا پی ٹی آئی حکومت پر 40 ارب کے منظم اسکینڈل کا شدید الزام، پی اے سی نے فوری تحقیقات کا اعلان کر دیا"
گورنر فیصل کریم کنڈی کا پی ٹی آئی حکومت پر 40 ارب کے منظم اسکینڈل کا شدید الزام، پی اے سی نے فوری تحقیقات کا اعلان کر دیا"
پشاور: خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت پر 40 ارب روپے کے مالی اسکینڈل کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک مستند آڈٹ رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ صرف ایک علاقے میں منظم انداز میں عوامی خزانے کی اتنی بڑی رقم لوٹی گئی۔ گورنر ہاؤس میں میڈیا سے بات چیت کے دوران انہوں نے الزام لگایا کہ "پی ٹی آئی حکومت کے دور میں صوبائی اداروں میں مالی بے ضابطگیوں کی یہ واردات محض ایک مثال ہے، جب کہ وسائل کے غلط استعمال کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔" ان کا کہنا تھا کہ "یہ گروہ عوامی ٹیکس کے پیسوں کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے، ڈاکے ڈالنے اور منظم کرپشن میں ملوث تھا، جس کی ہم نے پہلے دن سے نشاندہی کی تھی۔"
کنڈی نے زور دے کر کہا کہ اس لوٹ مار نے صوبے کی ترقی کو بری طرح متاثر کیا ہے، اور قانونی اداروں کو چاہیے کہ ثبوتوں کی روشنی میں فوری احتساب کا عمل تیز کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آڈٹ رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور تمام مجرموں کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔ گورنر کے ان بیانات کے بعد صوبائی سیاسی صورتحال میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، خاص طور پر جب پی ٹی آئی کی طرف سے اب تک ان الزامات پر کوئی رسمی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سوتی کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں بالائی کوہستان ضلع کے سرکاری بینک اکاؤنٹس میں 40 ارب روپے کے مشکوک لین دین پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے 5 مئی 2025 کو خصوصی میٹنگ طلب کرتے ہوئے اس مالی اسکینڈل کی تفصیلی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔ معاملے کی نوعیت کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ "ہزاروں جعلی چیکوں کے ذریعے سرکاری فنڈز کو نجی اکاؤنٹس میں منتقل کرنے والوں کو کوئی تحفظ نہیں دیا جائے گا۔" انہوں نے وضاحت کی کہ یہ تحقیقات نہ صرف عوامی بھروسہ بحال کریں گی بلکہ مالی شفافیت کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔
صوبائی حکومت نے بھی اس معاملے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ شفافیت کے ساتھ تحقیقات کریں۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر سیف نے کہا کہ "موجودہ حکومت بدعنوانی کے خلاف صفر رواداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔" انہوں نے واضح کیا کہ یہ اسکینڈل پچھلی حکومت کے دورِ حکومت میں پیش آیا تھا، جب کہ موجودہ انتظامیہ نے کرپشن روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے ہیں۔
معاملے کی گہرائی میں جاتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ آڈٹ رپورٹ نے گورنر کے دعوؤں کو تقویت بخشی ہے، مگر عدالتی اور انتظامی سطح پر تیز رفتار کارروائی ہی عوامی اعتماد بحال کر سکتی ہے۔ دوسری طرف، نیب کے ڈائریکٹر جنرل سمیت تمام متعلقہ افسران کو پی اے سی کے اجلاس میں بریفنگ دینے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے، جب کہ سیکرٹری فنانس، سیکرٹری کامز اینڈ ورکس اور آڈیٹر جنرل سمیت دیگر عہدیداران سے بھی معاملے کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ گورنر کنڈی گزشتہ کئی ہفتوں سے پی ٹی آئی کی سابق حکومت پر مالی بدعنوانی اور وسائل کی غیر قانونی منتقلی کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ تاہم، تازہ آڈٹ رپورٹ نے ان کے موقف کو نئی سنجیدگی بخشی ہے، جس کے بعد صوبائی سیاست میں نئے تنازعات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
No comments yet.