ڈپٹی اسپیکر بلوچستان غزالہ گولہ اور ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی ملاقات، خواتین کے حقوق پر گفتگو
دونوں رہنماؤں نے ویمن پارلیمانی کاکس کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے کاکس قانونی اور سماجی اصلاحات کے لیے سرگرم ہے۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) چیئرپرسن وومن کاکس و ڈپٹی اسپیکر بلوچستان میڈم غزالہ گولہ نے رکن قومی اسمبلی اور سیکریٹری جنرل ویمن پارلیمنٹری کاکس ڈاکٹر سیدہ شاہدہ رحمانی سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اہم قومی معاملات اور خاص طور پر خواتین سے متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔
ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی چاروں صوبوں کی جماعت ہے اور وفاق کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ غریبوں، کسانوں، مزدوروں، خواتین، اقلیتوں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ پارٹی کو صرف سندھ کی نمائندہ سمجھتے ہیں، وہ یا تو لاعلم ہیں یا تعصب کا شکار ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے ویمن پارلیمانی کاکس کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے کاکس قانونی اور سماجی اصلاحات کے لیے سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 میں کام کی جگہوں پر ہراسانی سے تحفظ کا قانون اور 2021 میں اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ جیسے قوانین خواتین کے وقار، تحفظ اور حقوق کی ضمانت دیتے ہیں اور ان کے نفاذ میں کاکس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندہ کی حیثیت سے انہیں اپنی جماعت پر فخر ہے، جو ہمیشہ خواتین کی طاقت اور ترقی کے لیے کوشاں رہی ہے۔ انہوں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ویژن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین پولیس اسٹیشنز، لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام، اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) جیسے منصوبوں نے لاکھوں خواتین کو خودمختاری اور معاشی سہولتیں فراہم کیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی BISP پس ماندہ طبقے کی خواتین کے لیے امید کی کرن ہے اور معاشی خودمختاری اور سماجی ترقی کو یقینی بنا رہا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کے حوالے سے پہچانا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نےکہا کہ خواتین پر تشدد کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے پالیسی سازوں، سول سوسائٹی اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے متحد ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے قانونی اقدامات، ثقافتی اصلاحات اور متاثرہ خواتین کے لیے مضبوط معاون نظام کی ضرورت کو اجاگر کیا تاکہ خواتین کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آخر میں ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین خوف سے آزاد، مساوی حیثیت کی حامل اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مساوات، انصاف اور عزت پر مبنی معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہے۔
No comments yet.